خواتین کی مخصوص نشستوں پر مستحق نظر انداز

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 23:46 GMT 04:46 PST

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگی کے لیے نام مانگے ہیں اور عام طور تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان نشستوں پر وہ کارکن خواتین منتخب ہوں گی جو اپنی جماعت کے لیے قربانیاں دیتی ہیں لیکن پاکستان میں روایت اس سے مختلف رہی ہے۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے قریبی رشتہ دار خواتین کو نامزد کیا جاتا رہا اور اسی وجہ سے اسمبلی میں سیاسی رہنماؤں کی بیویاں یا ان کی بہو بیٹیاں مخصوص نشستوں پر اسمبلی رکن بنیں۔

بعض سیاسی کارکنوں اپنی جماعتوں کی طرف سے خواتین کارکنوں کو مخصوص نشستوں کے لیے نظر انداز کرنے کے فیصلے کو سیاسی جماعتوں کی بے وفائی قرار دیتے ہیں۔

کلِک پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست

تمام سیاسی جماعتیں اب یہ دعویٰ تو کر رہی ہیں کہ خواتین کی مخصوص نسشوں پر نامزدگی کے لیے سیاسی جماعت سے ان کی وابستگی اور ان کی وفاداری کو فوقیت دی جائے گی تاہم مبصرین کو یہ خدشہ ہے کہ اس حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

پیپلز پارٹی کی ساجدہ میر بائیس برس سے سیاسی کارکن ہیں اور وہ سیاسی کارکنوں کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔

خاندان کو نوازنا

"خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگی کے معاملے میں سیاسی جماعتیں سیاسی کارکنوں سے زیادتی کر جاتی ہیں اور اپنے خاندان کو نواز دیتی ہیں"

ساجدہ میر

ان کا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب اسمبلی تک پہنچنے کے لیے طویل سفر طے کرنا پڑا۔

ساجدہ میر کے بقول خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگی کے معاملے میں سیاسی جماعتیں سیاسی کارکنوں سے زیادتی کر جاتی ہیں اور اپنے خاندان کو نواز دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر بیٹیوں، بھانجیوں اور بھتیجیوں کو نامزد کرنا ان سیاسی کارکن خواتین سے زیادتی ہے جو اپنی جماعت کے لیے فرنٹ لائن پر مار کھاتی ہیں اور الیکشن کے دنوں میں جماعت کے لیے کام کرتی ہیں۔

ساجدہ میر کے مطابق پارٹی کے وفا داری سیاسی کارکنوں کے ساتھ سیاسی جماعت کو بے وفائی نہیں کرنی چاہیے۔

دو ہزار دو کے انتخابات سے قبل جنرل پرویز مشرف کے ایل ایف او کے تحت ہونے والی آئینی ترمیم کے تحت میں قومی اور صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کو بحال کیا گیا تھا۔

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستیں جس مقصد کے لیے بحال کی گئی تھی وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔

ان کے بقول سیاسی جماعتوں کو سیاسی خواتین کارکنوں کو نظرانداز کرنے پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔

مقصد پورا نہیں ہوا

"خواتین کی مخصوص نشستیں جس مقصد کے لیے بحال کی گئی تھی وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ سیاسی جماعتوں کو سیاسی خواتین کارکنوں کو نظرانداز کرنے پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔ مخصوص نشستیں اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ ان پر پارٹی کے ان لوگوں کو منتخب کرایا جائے جو عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے"

سہیل وڑائچ

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستیں اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ ان پر پارٹی کے ان لوگوں کو منتخب کرایا جائے جو عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی عہدیدار بشریٰ خالق اس بات پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں کہ اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر زیادہ تر غیر سیاسی خواتین کی نامزدگیاں کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے خواتین ارکان اسمبلی پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

بشریٰ خالق نے سیاسی کارکن خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ خاندان کی خواتین کی نامزدگیوں کی حوصلہ کشنی ہو۔

سیاسی مصبرین کا کہنا ہے سیاسی جماعتوں کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں گے کہ اگر انہوں نے سیاسی خواتین کارکنوں کو متحرک اور اپنے ساتھ رکھنا ہے تو کارکن خواتین کی اسمبلی کے لیے مخصوص نشستوں پر نامزدگی کرنا ہوگی۔

سیاسات کے پروفیسر رسول بخش رئیس نے خبردار کیا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے فیصلے کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بقول ان کے اس طرح سے سیاسی کارکنوں کو نظر انداز کرنے سے سیاسی جماعت کے اندر بغاوت ہو جائے گی۔

مبصرین نے یہ تجویز دی ہے کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر قریبی رشتہ داروں کی نامزدگی کی حوصلہ کشنی ہو اور سیاسی کارکنوں خواتین کو اسمبلی میں جاکر اپنا فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔