خیبر پختونخوا: ہر حلقے کی سطح پر اتحاد ہوں گے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 06:37 GMT 11:37 PST

ٹھیکیداری فارمولے کے اگر ایک طرف فائدے ہیں تو دوسری جانب نقصانات بھی بہت ہیں۔ کامیاب ہوئے تو واہ واہ اور ناکام ہوئے تو ذمہ داری لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

پاکستان کے صوبہ خیر پختونخواہ میں سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے ہر حلقے کی سطح پر علیحدہ علیحدہ اتحاد کے فارمولے پر غور کر رہی ہیں اور اس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد ٹھیکیداری نظام کی طرح ہوں گے یعنی ہر حلقے کا الگ ٹھیکہ ہو گا۔

نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے بعد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے لیے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت شروع کر دی ہے۔ اگرچہ اس بارے میں سوچ بچار تو پہلے سے جاری تھا اور سیاسی جماعتیں ہم خیال شخصیات اور سیاسی جماعتوں سے رابطے میں تھیں لیکن اب سیاسی رہنما متحرک ہو گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں کون کس کا اتحادی ہو گا اس کا اب تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نے جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان) گروپ سے مذاکرات شروع کیے ہوئے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آ رہی جبکہ پیپلز پارٹی اس وقت انتخابات میں حصہ لینے والے مضبوط امیدواروں کی تلاش میں ہے۔

اے این پی اور پی پی پی اس وقت مشکل صورتحال سے دو چار ہیں کیونکہ پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے بعد اب مبصرین کے مطابق ان دونوں جماعتوں کو بڑے اتحاد قائم کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔

تحریک انصاف اگرچہ صوبے میں لوگوں کے ذہنوں میں اچھا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن یہ جماعت کس کے ساتھ کیسا اتحاد کرے گی اس بارے میں صورتحال اب تک واضح نہیں ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت ساری توجہ تئیس مارچ کو لاہور کے جلسے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔

انتخابات میں حصہ لینے والے تجربہ کار امیدواروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے اس مرتبہ کوئی بڑا اتحاد نہیں بنے گا بلکہ ہر حلقے کی سطح پر اتحاد ہوں گے۔

اے این پی، پی پی پی اور پی ٹی آئی

  • پیپلز پارٹی اس وقت انتخابات میں حصہ لینے والے مضبوط امیدواروں کی تلاش میں ہے۔
  • اے این پی اور پی پی پی اس وقت مشکل صورتحال سے دو چار ہیں۔ پانچ سال تک حکومت میں رہے اب مبصرین کے مطابق ان دونوں جماعتوں کو بڑے اتحاد قائم کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔
  • تحریک انصاف اگرچہ صوبے میں لوگوں کے ذہنوں میں اچھا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن یہ جماعت کس کے ساتھ کیسا اتحاد کرے گی اس بارے میں صورتحال اب تک واضح نہیں ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اسرار اللہ گنڈہ پور کا کہنا ہے اب سیاست میں نظریہ یا مشن نہیں رہا بلکہ مفادات کے لیے سیاست کی جا رہی ہے۔ اس لیے اب انتخابات میں ہر حلقے کی سطح پر اتحاد ہوں گے۔

ایک حلقے میں اگر دو جماعتوں میں اتحاد ہو گا تو اس کے قریب دوسرے حلقے میں ہو سکتا ہے کہ وہی دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن میں حصہ لے رہی ہوں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فارمولا ٹھیکیداری نظام سے لیا گیا ہے۔ ٹھیکیدار جب کسی بڑے کام کا ٹھیکہ لیتے ہیں تو وہ اسے حصوں میں تقسیم کرکے آگے دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے ٹھیکیداروں کی مدد لے کر اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔

اس فارمولے کے اگر ایک طرف فائدے ہیں تو دوسری جانب نقصانات بھی بہت ہیں۔ کامیاب ہوئے تو واہ واہ اور ناکام ہوئے تو ذمہ داری لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

چند روز پہلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ ہر ضلعے کی سطح پر ہم خیال لوگ یا سیاسی جماعتیں اتحاد قائم کر لیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس مرتبہ تین جماعتیں حکومت قائم کر سکیں گی کوئی ایک یا دو جماعتیں مکمل اکثریت حاصل نہیں پائیں گی۔ انھوں نے ان تین جماعتوں کے نام نہیں بتائے۔

مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ بھی اتحاد سازی کے عمل میں بڑی حد تک متحرک نظر آ رہی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ جمیعت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہزار ڈویژن اور جنوبی اضلاع کی سطح پر اتحاد ہو سکتا ہے۔

مسلم لیگ ن جنوبی اضلاع میں جمیعت علمائے اسلام کے خلاف کوئی امیدوار نہیں لائے گی تو اسی طرح جمیعت علمائے اسلام ہزارہ ڈویژن میں ن لیگ کے امیدوار کے خلاف کسی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دے گی۔

اسی طرح مسلم لیگ ن پشاور اور بالائی علاقے جیسے سوات اور دیر میں جماعت اسلامی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں آزاد اراکین بھی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے یہاں اب تک یہ واضح نہیں ہو رہا کہ کونسی جماعت کس کے ساتھ انتخابات میں اتحاد قائم کر پائے گی اور کیا یہ اتحاد پھر آگے حکومت سازی کے لیے بھی جاری رہے گا اس کا فیصلہ وقت آنے پر ہی ہو سکے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔