طالبان سے مذاکرات پر فوج رائے نہیں دے سکتی: نوید قمر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 20:16 GMT 01:16 PST
نوید قمر

’طالبان فوج کو مذاکرات میں سٹیک ہولڈر سمجھتے ہیں‘

پاکستان کے وزیرِ دفاع نوید قمر نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر فوج اپنی رائے نہیں دے سکتی کیونکہ اصولی طور پر اسے حکومت کی پالیسی پر چلنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر ایک اتفاقِ رائے بنانے کی کوشش کی ہے اور اگر کوئی ایسی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے جہاں ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ صرف یہی ایک حل ہے تو اس بارے میں بھی پھر بات چیت کی جائے گی لیکن طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر لوگوں کا مؤقف انتہائی سخت ہے۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے معاملے پر جو عمل ہے وہ شروع ہو چکا ہے مگر پاکستانی طالبان سے بات کرنے کے معاملے پر ابھی عوام نے فیصلہ کرنا ہے۔

اس سوال پر کہ طالبان فوج کو مذاکرات میں سٹیک ہولڈر سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ طالبان کی خواہش کچھ بھی ہوسکتی ہے مگر حکومت کو قانون اور آئین کے تحت ہی چلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر حکومت مختلف اداروں سے مشاورت کرتی رہتی ہے اور انہیں ہمیشہ مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔

طالبان کی جانب سے حملے بند کرنے کے امکانات پر ان کا کہنا تھا سب سے پہلے اسلحے سے پاک کرنے کی بات کرنا ہوگی کیونکہ اگر کوئی بھی مذاکرات آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے تب تک یہ عمل شروع بھی نہیں ہو سکتا۔

آئندہ عام انتخابات میں طالبان کی جانب سے حملوں کے خدشات پر ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان نہیں کہ عبوری حکومت کے آنے کے بعد طالبان حملے بند کر دیں تاہم پاکستان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ برے سے برے حالات میں بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بھی ملک میں انتخابات ہوئے تھے جبکہ بلوچستان اور فاٹا میں ہمیشہ ہی حالات خراب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب باتوں کے باوجود پاکستان میں ہمیشہ انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس بار انتخابات میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔