قومی اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفیکیشن، نگران وزیراعظم پر ڈیڈلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 15:29 GMT 20:29 PST

یہ کسی سویلین صدر کے دور میں آئینی مدت پوری کرنے والی پاکستان کی پہلی قومی اسمبلی ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی کی آئینی مدت کی تکمیل پر تحلیل کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے تاہم اب تک ملک کے نگران وزیراعظم کے نام پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ نوٹیفیکیشن وزارتِ پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر کے سنیچر کی رات بارہ بجے تحلیل ہو جائے گی۔ وزارتِ پارلیمانی امور کے مطابق قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت تحلیل تصور کی جائے گی۔

پی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ کی تحلیل کا نوٹیفیکیشن کابینہ ڈویژن الگ سے جاری کرے گا۔

اس سے قبل سنیچر کی دوپہر اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی ملاقات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کروانے پر اتفاق ہوا۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز کروانے پر اتفاق کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کا عمل بھی خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔

تاحال صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر جسٹس (ر) طارق پرویز کو نگران وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے جبکہ باقی صوبوں میں مشاورت کا عمل جاری ہے۔

مرکز میں حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی مرکزی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کی جانب سے نگران وزیراعظم کے تجویز کردہ ناموں کو مسترد کردیا ہے اور بظاہر اس معاملے پر ’ڈیڈ لاک‘ پیدا ہوا گیا ہے۔

" قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے باوجود وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے پاس انیس مارچ تک متفقہ نگران وزیراعظم نامزد کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن انیس مارچ تک اتفاق نہ ہونے کی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی کو فوری طور پر پارلیمان کے ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانی ہوگی۔ اس کمیٹی میں بھیجے گئے نام قابل تبدیل نہیں ہوں گے لیکن انیس مارچ تک حکومت اور اپوزیشن کو نگران وزیراعظم کے لیے نئے نام پیش کرنے کی اجازت ہے۔"

اعجاز مہر، بی بی سی اردو اسلام آباد

مسلم لیگ (ن) نے چند روز قبل نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان اور سندھ کے قومپرست رہنما رسول بخش پلیجو کے نام تجویز کیے تھے۔ لیکن جمعہ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور چوہدری نثار علی خان کی فون پر بات چیت کے بعد مسلم لیگ (ن) جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان کا نام واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے حکومت کے پیش کردہ تینوں نام جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو، ڈاکٹر عشرت حسین اور عبدالحفیظ شیخ مختلف وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیے تھے۔ ان کے بقول کھوسو صاحب ضعیف العمر ہیں، عبدالحفیظ شیخ چند روز پہلے تک حکومت میں وزیر خزانہ تھے اور ڈاکٹر عشرت حسین بھی حکومتی سیٹ اپ کا حصہ ہیں۔

اس کے جواب میں سنیچر کو وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نگران وزیراعظم کے لیے اپوزیشن کے پیش کردہ دونوں نام بھی مسترد کردیے۔

ان کے بقول رسول بخش پلیجو کے صاحبزادے سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کرکے انتخاب کی تیاری کر رہے ہیں اور ناصر اسلم زاہد کے بہنوئی جسٹس نظام کا قتل کیس آصف علی زرداری کے خلاف داخل ہوا تھا اس لیے ان سے پیپلز پارٹی کو انصاف کی امید نہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی مدت سنیچر سولہ مارچ کو ختم ہو رہی ہے اور بیسویں آئینی ترمیم کے تحت اسمبلی کی تحلیل کے تین روز میں وفاق میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اگر نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہوا تو سپیکر قومی اسمبلی کو فوری طور پر قومی اسمبلی یا سینیٹ یا دونوں ایوانوں کے حکومت اور اپوزیشن کے بینچوں سے برابر کی بنیاد پر آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دینی ہوگی۔

آئین کے مطابق اس کمیٹی کے لیے اراکین وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نامزد کریں گے اور اس کمیٹی میں دونوں دو دو نام نگران وزیراعظم کےلیے پیش کریں گے اور کمیٹی کو تین روز کے اندر ایک نام پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اگر اس کمیٹی میں بھی متفقہ نگران وزیراعظم سامنے نہ آسکے تو یہ کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کو بھیجے گی اور کمیشن کو دو روز کے اندر نگران وزیراعظم کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

آئین کے مطابق صوبوں میں نگران وزیراعلٰی پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں چھ رکنی کمیٹی بنے گی۔ جب تک نگران وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نامزد نہیں ہوتے اس وقت تک متعلقہ اسمبلی ٹوٹنے کے باوجود وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کام کرتے رہیں گے۔

قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے باوجود وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے پاس انیس مارچ تک متفقہ نگران وزیراعظم نامزد کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن انیس مارچ تک اتفاق نہ ہونے کی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی کو فوری طور پر پارلیمان کے ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانی ہوگی۔ اس کمیٹی میں بھیجے گئے نام قابل تبدیل نہیں ہوں گے لیکن انیس مارچ تک حکومت اور اپوزیشن کو نگران وزیراعظم کے لیے نئے نام پیش کرنے کی اجازت ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔