’19 مارچ کو پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر اتفاق نہیں کیا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 15:11 GMT 20:11 PST

’ایک ہی دن انتخابات کے انعقاد کے متفقہ لائحہ عمل کے لیے ضروری ہے‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ جہاں ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کروانے پر وہ اصولی طور پر متفق ہیں وہیں انیس مارچ کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے پر کوئی اتفاق نہیں کیا گیا ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں شرکت کے بعد لاہور واپسی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں ایک ہی دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے اصولی طور پر تیار ہے لیکن ایک ہی روز اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ہی دن انتخابات کے انعقاد کے متفقہ لائحہ عمل کے لیے ضروری ہے کہ وفاق میں میں ایسا نگران وزیراعظم اور صوبوں میں نگران وزرائے اعلیٰ لائے جائیں جو اپنے منصب کے اہل ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ اجلاس میں انہوں نے ’قطعاً یہ نہیں کہا کہ انیس تاریخ یا جو بھی تاریخ کہی جا رہی ہے، اسی دن تمام اسمبلیاں تحلیل کرنے کا معاہدہ کیا۔ میں نے یہ کہا کہ ہماری جماعت چاہتی ہے کہ ایک ہی دن انتخابات ہوں۔‘

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں کی منتخب اسمبلیوں کی آئینی مدت الگ الگ دن مکمل ہوگی اور پنجاب اسمبلی کی مدت 9 اپریل تک ہے۔

"ایک ہی دن انتخابات کے انعقاد کے متفقہ لائحہ عمل کے لیے ضروری ہے کہ وفاق میں میں ایسا نگران وزیر اعظم اور صوبوں میں نگران وزرائے اعلیٰ لائے جائیں جو ان منصب کے اہل ہوں۔ قطعاً یہ نہیں کہا کہ انیس تاریخ یا جو بھی تاریخ کہی جا رہی ہے اسی دن تمام اسمبلیاں تحلیل کرنے کا معاہدہ نہیں کیا۔ "

وزیر اعلیٰ شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ صوبے میں نگران سیٹ اپ کے لیے اتفاق رائے لازمی ہے دوسری صورت میں آئین میں اس کے قیام کا طریقۂ کار بہت واضح انداز میں موجود ہے۔

سندھ اور بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان صوبوں میں اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ نگران وزیراعلیٰ تعینات کیے جائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نگران حکومت کے لیے فنکشنل لیگ سے مشاورت کی جائے کیونکہ وہی حقیقی اپوزیشن ہے۔

بلوچستان کے بارے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہاں قوم پرست جماعتوں کو مشاورت میں شامل کیا جائے اور انہیں مزید دیوار کے ساتھ نہ لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں کہہ چکی ہیں کہ اگر انہیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کردیں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز کروانے پر اتفاق کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کا عمل بھی خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔