بلوچستان: سترہ صوبائی وزراء مستعفی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 09:39 GMT 14:39 PST

بلوچستان میں گورنر راج کے خاتمے اورنواب اسلم رئیسانی حکومت کی بحالی کے بعد بلوچستان اسمبلی میں قائد حز ب اختلاف کے معاملے پر اچانک وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور اس کے اتحادیوں اور مخالفین کے درمیان ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

نواب اسلم رئیسانی اور ان کے قابل اعتماد اتحادیوں کی مرضی کے قائد حزب اختلاف کا راستہ روکنے کے لیے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق) اور آزاد گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض ا راکین اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سالہ دور میں بلوچستان میں قائدِ حزب اختلاف کی نشست پر کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں تھا مگر اب اچانک سے اتنے اراکین کا اکٹھے مستعفی ہونا ایک منصوبے کا حصہ لگتا ہے۔

سنیچیر کو بلوچستان کی حکومت کو ایک بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب عبوری صوبائی انتظامیہ کے تقرر پر تنازعے کے بعد سترہ وزراء نے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

حزب اختلاف نہ صرف اسمبلی بلکہ جمہوریت کی روح ہوتی ہے لیکن بلوچستان کی موجودہ اسمبلی میں حزب اختلاف کو کبھی پنپنے ہی نہیں دیا گیا اور وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی یہ کوشش رہی کہ اسمبلی کے تمام اراکین ان کے حامی بنیں۔

جس واحد رکنِ اسمبلی کو وہ اپنا حامی نہیں بناسکے وہ سردار یار محمد رند تھے جن کے ساتھ ان کی گزشتہ 25 سال سے قبائلی دشمنی چلی آرہی ہے۔

سردار یار محمد رند کی متعدد درخواستوں کے باوجود انہیں قائد حزب اختلاف نہیں بننے دیا گیا ۔

جس کے باعث بلوچستان کی موجودہ اسمبلی 4سال 8 ماہ قائد حزب اختلاف کے بغیر چلتی رہی۔

چونکہ اٹھارہویں ترمیم کی رو سے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کے لئے قائد حزب اختلاف کی مشاورت لازمی ہے۔

اس لئے 4 سال 8 ماہ بعد نواب اسلم رئیسانی اور ان کے اتحادیوں کی یہ کوشش تھی کہ وہ اپنی مرضی کا قائد حزب اختلاف لائیں تاکہ صوبے میں آئندہ کا نگران سیٹ ان کی مرضی کا ہو۔

لیکن مسلم لیگ (ق) کے بعض اراکین سمیت پیپلز پارٹی میں نواب اسلم رئیسانی کے مخالفین نے نواب رئیسانی اور ان کے اتحادیوں کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیئے اقدامات کیئے جن کے تحت سابق اسپیکر محمد اسلم بھوتانی نے گورنر بلوچستان کے چھوٹے بھائی نوابزادہ طارق مگسی کا قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے نوٹیفیکیشن جاری کیا جو کہ اس نوٹیفیکیشن سے چند روز قبل ہی حزب اختلاف کی نشستوں پر آئے تھے ۔

اس اقدام پر نواب اسلم رئیسانی اور ان کے قابل اعتماد اتحادیوں نے نہ صر ف اسلم بھوتانی کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹایا بلکہ نوابزادہ طارق مگسی کو بھی حزب اختلاف کے منصب سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن گورنر راج کے باعث وہ ایسا نہیں کرسکے۔

14 مارچ کو جب گورنر راج کا خاتمہ ہوا تو رئیسانی حکومت کی بحالی کے بعد وفاقی حکومت نے نواب اسلم رئیسانی سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بلوچستان اسبملی کو دیگر اسمبلیوں کے ساتھ تحلیل کیا جائے کیونکہ اگر وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی پہلے بلوچستان اسمبلی کو تحلیل کرنے پر راضی نہ ہوں تو تمام صوبائی اسمبلیوں کا ایک دن تحلیل ممکن نہیں ہوسکے گی کیونکہ بلوچستان اسمبلی کی مدت 6 اپریل کو ختم ہوگی۔

باخبر ذرائع کے مطابق اس کے لیے نواب اسلم ر ئیسانی نے وفاقی حکومت کے سامنے دو بڑے مطالبات رکھے جن میں چیف سیکریٹری کی تبدیلی کے علاوہ بلوچستان اسمبلی میں ان کی مرضی کے مطابق قائد حزب اختلاف کی تقر ری کا مطالبہ شامل تھا۔

اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں نوابزادہ طارق مگسی کو قائد حزب اختلاف کے منصب سے نہ ہٹایا جائے پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ق) اور آزاد گروپ کے بعض اراکین اسمبلی نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے ۔

یہ اعلان ہفتے کو بلوچستان اسمبلی کے موجودہ قائد حزب اختلاف نوابزادہ طارق مگسی کے ہمراہ پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر اور صوبائی وزیر میر صادق عمرانی‘ آزاد ارکان کے پارلیمانی لیڈر سردار اسلم بزنجواور مسلم لیگ ق کے رہنما شیخ جعفر مندوخیل نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

سردار اسلم بزنجو نے کہا کہ سانحہ علمدار روڈ کے بعد صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا اور اب اس کی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ صوبے میں اب کس کی حکمرانی ہے کیونکہ گورنر بلوچستان اسلام آباد میں ہیں اورچیف سیکرٹری انڈر ٹرانسفر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوئی ذمہ دار شخص نہیں انتخابات قریب ہیں اور نگران سیٹ اپ کیلئے نگران وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کا ہونا ضروری ہے۔

سابقہ اسپیکر اسلم بھوتانی نے نوابزادہ طارق مگسی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تھا مگر موجودہ اسپیکر نے انہیں معطل کر دیا تھا اور وہ کورٹ سے دوبارہ بحال ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں اپنی مرضی کا وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی ہیں لیکن اپوزیشن کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ اس وقت چالیس اراکین ہیں جن میں ایک بڑی تعداد وزراء کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزراءنے اپنے استعفے اپوزیشن لیڈر کے ذریعے گورنر کو بھجوا دیے ہیں انہوں نے کہا کہ جب بھی اسمبلی کا اجلاس ہوگا وہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نوابزادہ طارق مگسی نے کہا کہ جن اراکین نے ان پر اعتماد کیا ہے وہ ان کے مشکور ہیں اور وہ اسمبلی میں بحیثیت اپوزیشن لیڈر اپنا کردار ادا کریں گے۔

مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق نے کہا کہ انہوں نے طارق مگسی کو اپوزیشن لیڈر منتخب کیا ہے اور وہ ان کے ساتھ ہیں اور کسی بھی جانب دار نگران سیٹ اپ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس اکثریت نہیں رہی اخلاقی طور پر اسے مستعفی ہوجانا چاہئے پینسٹھ ارکان میں سے جب چالیس اپوزیشن میں بیٹھیں گے تو حکومت کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اخلاقی پاسداری کرتے ہوئے حکومت مستعفی ہوگی۔

پریس کانفرنس کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے جو صوبائی وزراءاور اراکین موجود تھے ان میں سلیم کھوسہ‘ حبیب الرحمان محمد حسنی‘ صادق عمرانی‘ سردار اسلم بزنجو‘ نوابزادہ طارق مگسی‘ بیگم رقیہ ہاشمی‘ شیخ جعفر مندوخیل‘ امان اللہ نوتیزئی‘صوبیہ کرن کبزئی‘ بابو رحیم مینگل‘ سردار مسعود لونی‘ بسنت لعل گلشن‘ طارق مسوری‘ میر شعیب نوشیروانی‘ جان علی چنگیزی‘ کیپٹن (ر) عبدالخالق اور سابق اسپیکر اسلم بھوتانی بھی موجود تھے ۔

اس سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنماء اور صوبائی وزیر سردار ثناءاللہ زہری نے یہ اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے اراکین بھی حزب اختلاف کی نشستوں پر بیھٹیں گے۔

ان اراکین کا کہنا تھا کہ وہ اب حزبِ اختلاف کے بنچوں پر بیٹھیں گے اور جمیعت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی گروپ کی جانب سے تجویز کردہ عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔