نگران وزیراعظم:’نیا نام آنے کی گنجائش موجود ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 15:33 GMT 20:33 PST

پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری دور میں قومی اسمبلی کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کی

پاکستان کی قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد ملک کے نگران وزیراعظم کے چناؤ پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور جہاں مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی سے کسی اتفاقِ رائے کے امکان کو رد کر دیا ہے وہیں پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر کوئی ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوگا۔

پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب رات بارہ بجے تحلیل کر دی گئی ہے۔

آئین کے مطابق اب پیپلز پارٹی کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور مسلم لیگ نواز کے سابق قائدِ حزبِ اختلاف چودھری نثار کے پاس نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاقِ رائے کے لیے انیس مارچ تک کا وقت ہے تاہم دونوں رہنما کسی ایک نام پر متفق ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما راجہ ظفرالحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کوئی اتفاق نہیں ہوسکا ہے: ’جو نام انھوں(پیپلزپارٹی) نے دیے تھے ہم نے وجوہات دے کر کہا کہ وہ غیر جانبدار نگران وزیر اعظم نہیں ہوسکتے اور جو نام ہم نے دیے تھے اس پر انھوں نے کہہ دیا کہ یہ تو مذاق ہے،ایسی صورت حال میں اتفاق رائے کا تو کوئی امکان نہیں رہتا۔‘

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے انیس مارچ تک کوئی متفقہ نام نہ دینے پر یہ معاملہ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے چار، چار ارکان شامل ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے اس کمیٹی کے لیے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ، فاروق ایچ نائیک، اے این پی کے غلام احمد بلور اور مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت کے نام تجویز کیے گئے ہیں تاہم مسلم لیگ نواز نے ابھی اس سلسلے میں نام نہیں دیے ہیں۔

بی بی سی اردو کے ذوالفقار علی کے مطابق راجہ ظفرالحق نے بتایا کہ وہ بھی اگلے ایک دو دن میں اپنے اراکین نامزد کریں گے۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے اتوار کو کہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام پر کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہوگا۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے لیے نام سامنے آنے کے لیے ابھی گنجائش موجود ہے۔

"جو نام انھوں(پیپلزپارٹی) نے دیے تھے ہم نے وجوہات دے کر کہا کہ وہ غیر جانبدار نگران وزیر اعظم نہیں ہوسکتے اور جو نام ہم نے دیے تھے اس پر انھوں نے کہہ دیا کہ یہ تو مذاق ہے،ایسی صورت حال میں اتفاق رائے کا تو کوئی امکان نہیں رہتا۔"

راجہ ظفرالحق

بعدازاں ریڈیو پاکستان کو ایک انٹرویو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’پہلے ہی مرحلے پر اتفاق رائے ہو جائے گا اور اگر پارلیمانی کمیٹی پر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو یہ معاملہ ہر صورت میں الیکشن کمیشن حل کرلے گا اور کوئی تعطل نہیں ہوگا۔‘

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے چند روز قبل نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان اور سندھ کے قومپرست رہنما رسول بخش پلیجو کے نام تجویز کیے تھے۔ لیکن جمعہ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور چوہدری نثار علی خان کی فون پر بات چیت کے بعد مسلم لیگ (ن) جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان کا نام واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے حکومت کے پیش کردہ تینوں نام جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو، ڈاکٹر عشرت حسین اور عبدالحفیظ شیخ مختلف وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیے تھے۔

اس سے قبل سنیچر کی شب وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے قوم سے اپنے الوداعی خطاب میں کہا تھا کہ نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں قوم سے اپیل کی کہ انتخابی عمل کو شفاف، پرامن اور خوشگوار ماحول میں مکمل کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس حکومت نے آغاز بھی مفاہمت سے کیا اور اختتام بھی مفاہمت پر ہی کر رہی ہے۔ ’نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے انہوں نے وزرائے اعلیٰ کو ایک ہی روز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی۔ ’مجھے خوشی ہے کہ تمام وزرائے اعلیٰ نےاس تجویز پر اصولی طور پر اتفاق کیا۔‘

وزیر اعظم نے اپنی الوداعی تقریر میں تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جمہوریت کی تقویت کے لیے حکومت کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کوئی بھی جمہوریت پر شب خون نہیں مارے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان پانچ سالوں میں حکومت ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کو ورثے میں شکستہ حال اور معاشی حالات میں گھرا ہوا ملک ملا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔