لیاری کےگینگ اور گینگ وار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 12:44 GMT 17:44 PST

کراچی پولیس نے لیاری میں کئی بار کارروائی کی ہے

کراچی کے علاقے لیاری میں منشیات فروشوں کی موجودگی آج کا مسئلہ نہیں ہے، یہ پاکستان کے قیام کے وقت بھی موجود تھا، لیکن انہیں سیاسی یا انتظامی حمایت حاصل نہ تھی اس لیے ان کا کردار منشیات فروشی تک محدود تھا، جس میں بھی افیون کی فروخت سرِفہرست تھی۔

پولیس کے ریکارڈ میں لیاری میں سب سے پہلے نبی بخش عرف کالا ناگ کا نام ملتا ہے جس پر سمگلنگ اور کچی شراب کی فروخت کا الزام تھا۔ سمگلنگ کی وجہ سے اسے شہر کے بعض تاجروں کی حمایت حاصل رہی، جو سمگلنگ شدہ سامان کے خریدار بھی تھے۔

کالا ناگ کی وفات کے بعد داد محمد عرف دادل اور شیر محمد عرف شیرل کے نام نظر آتے ہیں، ایرانی بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے دادل لیاری انڈر ورلڈ کے پہلے ڈان سمجھے جاتے ہیں، جو کراچی، مکران اور ایران تک راج کیا کرتے تھے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور سے لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوئی اور ایسا کرنے والوں میں کراچی کے چند معزز خاندان بھی شامل ہیں۔

گل حسن کلمتی اپنی کتاب ’کراچی سندھ کی مارئی‘ میں لکھتے ہیں کہ سیاسی پناہ ملنے کے بعد ان جرائم پیشہ افراد کا کردار بھی بڑہ گیا۔ سیاسی لوگ انہیں مخالفین کو دھمکانے، ڈرانے، سیاسی جلسوں پر حملے کرانے، پولنگ اسٹیشنوں پر دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں دادل کو گرفتار کیا گیا، جو جیل میں چل بسے جبکہ ان کے بھائی شیرل مخالف گروہ کے ہاتھوں مارے گئے۔

دادل کا بیٹا عبدالرحمان عرف رحمان ڈکیت ان دنوں کم عمر تھا اس لیے گروہ کی قیادت لال محمد عرف لالو نے سنبھالی۔

لیاری گینگ وار میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں

لیکن ان دنوں میں ایک اور شخص اقبال عرف بابو ڈکیت جرائم کی دنیا میں داخل ہوا اور دادل کی جگہ لے لی لیکن 1996 میں اسے پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

بابو کی گرفتاری کے بعد لال محمد عرف لالو کچھ عرصے کے لیے جرائم کی دنیا کے اکیلے ڈان رہے۔ وہ جرائم کے علاوہ مقامی لوگوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے، اس لیے ان کے لیے ہمدردیاں پیدا ہوئیں۔

اسی عرصے میں عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت نے بابو ڈکیت گروہ کے لڑکوں کو جمع کر کے اپنا گینگ بنایا اور اپنے والد دادل کی جگہ واپس لینے کا آغاز کر دیا۔ بابو ڈکیت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے رحمان کے ساتھ ڈکیت کا نام بھی جوڑ لیا۔

لالو بنیادی طور پر رحمان کے والد کے گینگ کے ہی رکن تھے اس لیے ابتدا میں دونوں میں کوئی تکرار نہیں ہوئی اور یوں دونوں گروپ غیر اعلانیہ تقسیم شدہ علاقوں میں وارداتیں کرتے رہتے ہے لیکن پھر ایک تاجر کے اغوا کے تاوان پر دونوں میں تنازع کھڑا ہوا ہے اور دشمنی کا آغاز ہوا۔

2004 میں لالو کو پولیس نےگرفتار کرلیا تو اس گروپ کی قیادت ان کے بیٹے ارشد کے پاس آئی جس کا سامنا عبدالرحمان عرف رحمان ڈکیت سے ہوا جو اس وقت تک لیاری کا ’ڈان‘ بن چکا تھا۔

رحمان ڈکیت نے لال محمد عرف لالو کی طرح مقامی غریبوں، بیواؤں کی مالی مدد کر کے ہمدردیاں حاصل کیں اور اسی بنیاد پر مقامی سیاست پر اثر انداز ہونا شروع کیا۔

اس کے جواب میں ارشد پپو نے رحمان ڈکیت کا مقابلہ حاصل کرنے کے لیے شہر کی ایک ایسی تنظیم کی حمایت حاصل کر لی جو لیاری میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی خواہش مند تھی۔

رحمان بلوچ کے گروہ کی قیادت عذیر بلوچ نے سنبھال لی تھی

اس تنازع کے دوران میوہ شاہ قبرستان میں دفن رحمان بلوچ کے والد دادل اور چچا شیرل کی قبریں مسمار کی گئیں اور اس کے علاوہ رحمان ڈکیت کے قریبی سمجھے جانے والے مقامی ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف ماما فیضو (امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ کے والد) کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد دونوں کی دشمنی میں شدت آگئی اور دونوں گروہوں کے باہمی تصادم میں کئی درجن لوگ مارے گئے۔

2008 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد لیاری میں امن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا جس کی سربراہی عبدالرحمان بلوچ المعروف رحمان ڈکیت نے سنبھالی۔

اس دوران ارشد پپو منظر سے غائب ہی رہے۔ اگست دو ہزار نو میں رحمان ڈکیت کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں تین ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔

اس کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اب گینگ وار کا خاتمہ ہوجائے گا لیکن یہ ممکن نہ ہوا اور رحمان بلوچ کے گروہ کی قیادت ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف فیضو کے بیٹے عذیر بلوچ نے سنبھال لی۔

اسی دوران شیر شاہ مارکیٹ میں تاجروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد حکومت نے عذیر بلوچ کے سر کی قیمت مقرر کر دی تاہم یہ فیصلہ پچھلے دنوں واپس لے لیا گیا ہے۔

اب انتخابات سے پہلے ارشد پپو کی ہلاکت کی اطلاعات نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ یہ ہلاکت ایسے وقت ہوئی ہے جب لیاری سے پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔