نبیل گبول کا فیصلہ پی پی پی کے لیے دھچکا

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 21:28 GMT 02:28 PST
نبیل گبول اور بینظیر بھٹو

نبیل گبول نے انیس سو ستاسی میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول اپنی جماعت پی پی پی سے پچیس سالہ رفاقت ختم کر کے متحدہ قومی موومنٹ میں شامل ہوگئے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بڑا نقصان اور ایم کیو ایم کی کراچی میں سیاسی پوزیشن کا مزید مضبوط ہونا قرار دیا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار مقتدہ منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ نبیل گبول کی پی پی پی کے ساتھ ذاتی رفاقت تو پچیس سال کی تھی مگر ان کا خاندان پی پی پی کا تینتالیس سالوں سے ساتھ دیتا آیا تھا۔ یہ پی پی پی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ ان کی نظر میں اب اور بلوچ قبائل کا بھی کراچی میں ایم کیو ایم کی طرف آمد کا سلسلہ شروع ہوگا جس کا فائدہ ایم کیو ایم کو ہی ہوگا کیونکہ اس طرح اسے لیاری میں اپنی سیاسی حیثیت مضبوط کرنے کا مزید موقع ملے گا۔ مقتدہ منصور کےمطابق نا صرف لیاری بلکہ اطراف کے علاقوں ضلع شرقی اور غربی دونوں میں ایم کیو ایم کو مزید مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ مقتدہ منصور سمجھتے ہیں کے اس مرتبہ پی پی پی کو لیاری میں خاص طور پر صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مشکلات کا سامنا ہوگا۔

لیاری ہمیشہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا رہا ہے جہاں صوبائی اور قومی اسمبلی کے تینوں انتخابی حلقوں سے ہمیشہ پی پی پی جیتتی رہی ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا رہا ہے کہ لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مقتدہ منصور کا موقف ہے کہ نبیل گبول کےحلقے میں سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہور ہی ہے اور کئی دھڑے اور مافیا وہاں طاقت کی جنگ لڑنے میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیاں لیاری میں ایسی رہیں جن کی وجہ سے نبیل گبول وہاں جا نہیں پا رہے تھے، جبکہ مختلف مافیاز کے درمیان تصادم رہتا تھا وہاں ایک چو مکھی لڑائی جاری تھی جس میں یہ واضح نہیں تھا کے کون سیاسی بنیادوں پر وہاں مضبوط ہے اور کون سا مافیا مضبوط ہے یعنی پی پی پی کے لیے لیاری میں ایک نہیں کئی چیلنج سامنے آئے ہیں جس نے جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

لیاری وہ حلقہ ہے جہاں سے پی پی پی کی مقتول رہنما بے نظیر بھٹواور ان کے شوہر اور پاکستان کے صدر آصف زرداری بھی انتخاب لڑ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ جبکہ آئندہ انتخابات کے لیے پی پی پی نے بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے صاحبزادے بلاول بھٹو کو لیاری سے الیکشن لڑانے کا فیصلے کیا تھا۔ اس تناظر میں سینیئر تجزیہ کار جعفر احمد نے نبیل گبول کے پی پی پی چھوڑ کر ایم کیو ایم میں شامل ہونے کے فیصلے کو سمجھداری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں بلاول بھٹو زرداری کے الیکشن لڑنے سے نبیل گبول کے لیے اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا سوائے اس کے کہ وہ ایم کیو ایم میں شامل ہو جاتے جو کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے۔

جعفر احمد سمجھتے ہیں کہ لیاری کی تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال، ریاستی عملداری کا کمزور ہونا اور مافیاز کا مضبوط ہونا یہ تمام وہ باتیں تھی جن سے نبیل گبول نے سبق حاصل کیا ساتھ ہی ان کے پی پی پی سے اختلافات کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا تو لگتا ایسا ہی ہے کہ اب پی پی پی کا اپنے اس روایتی حلقے پر وہ قابو نہیں رہا جو پہلے تھا۔

واضح رہےکہ پی پی پی کے سابق رہنما نبیل گبول نے متحدہ قومی موومنٹ میں شامل ہونے کا اعلان کراچی میں ایم کیو یم کے مرکز نائن زیرو میں پریس کانفرنس میں کیا۔ نبیل گبول کے مطابق انہوں نے پی پی پی چھوڑنے کا فیصلہ پارٹی کے ساتھ شدید اختلافات، ان کے انتخابی حلقے لیاری کو مسلسل نظر انداز کیے جانا اور وہاں جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں عوام کو یرغمال بنائے رکھنے کے بعد کیا۔

نبیل گبول نے انیس سو ستاسی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر لیاری کے حلقے سے پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوتے رہے۔ نبیل گبول انیس سوترانوے سے لے کر انیس سو چھیانوے تک سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔