بلوچستان کی صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی گئی

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 10:56 GMT 15:56 PST

گورنر بلوچستان نے اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفیکیشن جاری کیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے گورنر ذوالفقار مگسی نے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کی ایڈوائس پر صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ نے پیر کی صبح اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس گورنر کو بھیجی تھی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق صوبے میں نگران حکومت کے قیام تک اسلم رئیسانی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

بلوچستان اسمبلی کی تحلیل کے لیے اتوار کو پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما علی مدد جتک نے 19 مارچ کی تاریخ دی تھی لیکن اس سے ایک دن قبل ہی اسمبلی ختم کر دی گئی۔

نگران سیٹ اپ کی تشکیل سے قبل قائد حزب اختلاف کے معاملے پر پانچ سال تک ایک ساتھ رہنے والے اتحادیوں کے تنازع کو اس جلد تحلیل کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب نواب اسلم رئیسانی اور ان کے قابل اعتماد اتحادیوں کی مرضی کے قائد حزب اختلاف کا راستہ روکنے کے لیے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق) اور آزاد گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا تھا۔

بعدازاں اتوار کی شب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی رہنما مولانا عبدالواسع کی بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس پر پشاور ہائیکورٹ نے پیر کی صبح حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔

بلوچستان اسمبلی کی آئینی مدت چھ اپریل کو ختم ہونی تھی لیکن سنیچر کو اسلام آباد میں وزیراعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ایک ہی دن انعقاد پر اتفاقِ رائے ہوا تھا۔

اس اتفاقِ رائے کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ چاروں صوبائی اسمبلیاں انیس مارچ کو تحلیل کرنے پر اتفاق بھی ہوا ہے۔ تاہم بعدازاں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور پنجاب اسمبلی کی مدت نو اپریل کو مکمل ہوگی۔

بلوچستان میں تاحال نگران سیٹ اپ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنما علی مدد جتک نے اتوار کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں ایک غیر جانبدار نگران سیٹ اپ لایا جائے گا تاکہ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ تمام سیاسی جماعتوں سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو قابل قبول ہو۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ صوبائی نگران سیٹ اپ میں ٹیکنوکریٹس بھی ہوسکتے ہیں اور صحافی بھی لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ تمام اتحادیوں اور اپوزیشن کی مشاورت کیا جائے گا ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔