’افغان امن کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 23:04 GMT 04:04 PST

مولانا طاہرمحمود اشرفی متحدہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ ہیں

پاکستانی علما نے افغان امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت کویہ کہہ کرمسترد کر دیا ہے کہ افغان صدراوردفترِخارجہ نے ایک پاکستانی عالم کے خلاف جو زبان استعمال کی، پہلے اس پرمعذرت کی جائے۔

چند روز قبل ایک افغان ٹی وی چینل ’طلوع‘ میں پاکستانی علما کی ایک تنظیم متحدہ علما کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی سے منسوب ایک خبر آنے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی، نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن اور افغان دفترِخارجہ کے ترجمان نے اس کی سختی سے مذمت کی تھی۔

خبر کے مطابق مولانا اشرفی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ افغانستان میں خودکش حملے جائز ہیں۔

اگرچہ مولانا طاہر محمود اشرفی نے ایک بیان کے ذریعے ان سے منسوب اس فتوے کو غلط قراردیا تھا، مگر اس کے باوجود افغانستان میں ان کے اس بیان کے بعد ماحول میں حدت برقرار رہی یہاں تک کہ پاکستانی دفترِخارجہ کو بھی اس قسم کے کسی بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا۔

اس بیان کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے علما کی جو مشترکہ کانفرنس افغانستان میں ہونا تھی، وہ بھی پس منظرمیں چلی گئی تھی اورافغان صدر حامد کرزئی نے علما کانفرنس میں شرکت کے لیے مولانا طاہراشرفی کی پاکستانی وفد میں شمولیت پر پاکستانی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم بعض پاکستانی علما کا کہنا ہے کہ منگل کوافغان حکومت کے بعض حکام اورافغانستان میں امن اورمفاہمتی عمل کے لیے سرگرم ہائی پیس کونسل کے اراکین نے ان سے رابطہ کیا اورانہیں افغانستان میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے علما کانفرنس میں ایک بارپھر شرکت کی دعوت دی۔

البتہ انھوں نے اسے یہ کہہ کرمسترد کردیا کہ جس طریقے سے ایک ’خودساختہ‘ بیان کی بنیاد پرایک پاکستانی عالم اور پوری قوم کو تضحیک اورلعن طعن کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد جب تک افغان صدرحامد کرزئی خود اور افغان دفترخارجہ معذرت نہیں کرتے، کوئی پاکستانی عالم علما کانفرنس میں نہیں جائے گا۔

اس سلسلے میں جب مولانا طاہرمحمود اشرفی سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے بھی افغان حکومت اور ہائی پیس کونسل کی جانب سے رابطوں کی تصدیق کی اور کہا کہ جب تک ان سے خودکش حملوں کو جائز قرار دینے کے غلط بیان پرمعافی نہیں مانگی جاتی، وہ افغانستان میں امن عمل کو تقویت دینے کے لیے کسی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کسی کانفرنس میں پاکستانی علما کے شرکت نہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں ان کے خلاف بلاوجہ بیان بازی اورعلما سے حامد کرزئی کو امیرالمومنین جبکہ ملاعمر کو ظالم قراردینے کے فتوے کا حصول کی کوشش شامل ہے۔

"پاکستانی علما افغانستان میں امن کے عمل کے لیے اپنی ذمے داری سے باخبر اور اس کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں لیکن وہ افغان صدر حامد کرزئی کی کٹھ پتلیاں نہیں بنیں گے۔"

مولانا طاہراشرفی

متحدہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ مولانا طاہرمحمود اشرفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کی کسی بھی علما کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا ان کا فیصلہ انفرادی نہیں بلکہ مجموعی ہے اوراس قسم کی کسی بھی کانفرنس میں ان کی تنظیم، مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام، مولانا سمیع الحق کی جمعیت علمائے اسلام، جماعتِ اسلامی اورتنظیم وفاق المدارس میں سے کوئی شرکت کرنے نہیں جا رہا۔

مولانا طاہراشرفی کہتے ہیں کہ وہ اور دیگر پاکستانی علما افغانستان میں امن کے عمل کے لیے اپنی ذمے داری سے باخبر اور اس کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ وہ افغان صدر حامد کرزئی کی کٹھ پتلیاں نہیں بنیں گے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں امن اورمفاہمت کے عمل کوفروغ دینے کے لیے افغان اورپاکستانی علما کی ایک مشترکہ کانفرنس اوراس کے اختتام پردہشت گردی کے خلاف ایک فتوے کے حصول کے لیے گذشتہ سال کے آخرسے کوششیں جاری ہیں جوآخری وقت تک مختلف تنازعات کی بدولت کامیاب ہوتی نظرنہیں آرہیں اوراس کے لیے کئی بارتاریخیں طے کرنے کے باوجود یہ کانفرنس ملتوی کی جاتی رہی ہے۔

افغان طالبان نے علما کانفرنس کو امریکی کارروائی قراردیا تھا اورپاکستانی، سعودی، بھارتی اوردیگرممالک کے علما سے ایسی کسی بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔