نگراں حکومت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 14:57 GMT 19:57 PST

نگران حکومت کا اعلان انتخابات کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان میں پارلیمان کے تحلیل ہونے کے بعد نگراں وزیر اعظم کے تقرر کے لیے جاری سیاسی گفت و شنید بغیر کسی نتیجے پر پہنچے جاری ہے اور اب تک یہ واضع نہیں کہ نگراں انتظامیہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں نگراں وزیراعظم کے نام پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا اور فریقین نے پارلیمانی کمیٹی کے لیے آئین کے مطابق چار چار اراکین نامزد کردیے ہیں اور اسپیکر نے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

آئین کے مطابق فریقین کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب بارہ بجے تک نگراں وزیراعظم کے لیے نامزدگی تبدیل کرنے کا اختیار ہے لیکن اگر ان میں اتفاق نہیں ہوا اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں گیا تو وہاں پیش کردہ دو دو نام ناقابل تبدیل ہوں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ نگراں وزیراعظم کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں بھیجنے کی نوبت نہ آئے۔

حکومت نے سید خورشید احمد شاہ، فاروق نائیک، چوہدری شجاعت حسین اور حاجی غلام احمد بلور کو پارلیمانی کمیٹی کے لیے نامزد کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے سردار مہتاب احمد عباسی، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید اور سردار یعقوب ناصر کو نامزد کیا ہے۔

دونوں جانب سے نامزد کردہ اراکین ٹھنڈے مزاج اور معاملات کو سلجھانے کی شہرت رکھتے ہیں اور گزشتہ پانچ برسوں میں ایوان کے اندر جب بھی تلخی ہوئی تو انہوں نے ہی اہم کردار ادا کیا اور کئی مواقع پر اختلاف کو اتفاق میں تبدیل کیا۔

لیکن نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنا اس کمیٹی کے لیے ایک بڑا چیلینج ہوگا کیونکہ پیپلز پارٹی تادم تحریر بضد ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو میں سے کسی ایک کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) بضد ہے کہ جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور رسول بخش پلیجو میں سے کسی کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب تک اگر اس معاملے پر اتفاق نہیں ہوتا تو بدھ کو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا جس کو تین روز کے اندر یعنی جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب رات بارہ بجے تک کسی ایک نام پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اگر پارلیمانی کمیٹی بھی اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائی تو اس صورت میں سنیچر تئیس مارچ کو فریقین کی جانب سے دو دو نام الیکشن کمیشن کو چلے جائیں گے اور حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا پڑے گا۔

پارلیمانی کمیٹی

حکومت نے سید خورشید احمد شاہ، فاروق نائیک، چوہدری شجاعت حسین اور حاجی غلام احمد بلور کو پارلیمانی کمیٹی کے لیے نامزد کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے سردار مہتاب احمد عباسی، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید اور سردار یعقوب ناصر کو نامزد کیا ہے۔ دونوں جانب سے نامزد کردہ اراکین ٹھنڈے مزاج اور معاملات کو سلجھانے کی شہرت رکھتے ہیں اور گزشتہ پانچ برسوں میں ایوان کے اندر جب بھی تلخی ہوئی تو انہوں نے ہی اہم کردار ادا کیا اور کئی مواقع پر اختلاف کو اتفاق میں تبدیل کیا۔

اس صورت میں الیکشن کمیشن جو پہلے ہی نامزدگی فارم کے معاملے پر تنقید کے زد میں ہے مزید متنازع بن سکتا ہے۔

کیونکہ جس بھی فریق کے نامزد کردہ امیدوار کا انتخاب الیکشن کمیشن بطور نگراں وزیراعظم کرے گا تو ضروری نہیں کہ دوسرا فریق اُس سے متفق ہو۔ ایسے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں پر لازم ہے کہ معاملہ الیکشن کمیشن یا پارلیمانی کمیٹی تک نہ جانے دیں۔ اگر انہیں نئے نام سامنے لانا پڑیں تو وہ لائیں اور معاملہ بات چیت سے طے کریں۔

نگراں وزیراعظم کے تقرر کا معاملہ اگر پارلیمانی کمیٹی میں گیا تو اس کا بھی مسلم لیگ (ن) کو سیاسی نقصان پہنچے گا، کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے پارلیمانی کمیٹی میں صرف اپنی جماعت کے نام دیے ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ مسلم لیگ (ن) سے ناراض ہیں کیونکہ انہیں مسلم لیگ (ن) اپوزیشن کا حصہ نہیں مانتی۔

اگر مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم اور جے یو آئی کو اپوزیشن کا حصہ نہیں سمجھتی اور انہیں پارلیمانی کمیٹی میں نمائندگی نہیں دیتی تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کس طرح بلوچستان میں چند روز قبل اپوزیشن میں آنے والوں کو نمائندگی کا حق دینے کا مطالبہ کرے گی؟

سندھ میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں کیونکہ وہاں اپوزیشن کی جن پارٹیوں کی مسلم لیگ (ن) حمایت کرتی ہے وہ بھی چند ماہ پہلے تک حکومت کا حصہ تھیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ایسے اقدامات کی وجہ سے جہاں وہ الیکشن کے بعد مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے لیے جے یو آئی اور ایم کیو ایم کو خود سے دور کر رہی ہے وہاں انہیں پیپلز پارٹی کا اتحادی بننے پر مجبور کر رہی ہے۔

اگر بالفرض مسلم لیگ (ن) جے یو آئی اور ایم کیو ایم کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کر بھی لے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہوگی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔ ایسے میں تو ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کو سیاسی تنہائی کا شکار ہونے کا طعنہ مل سکتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔