سندھ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں ’تحلیل‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 16:35 GMT 21:35 PST

جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز کو خبیر پختون خوا کے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر نے صوبے کے وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے مشورے پر منگل کو صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی ہے، جب کہ سندھ کے گورنر عشرت العباد نے بھی سندھ اسمبلی کی تحلیل کے لیے وزیرِ اعلیٰ کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کی تحلیل کے لیے منگل کی شام نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق صوبائی اسمبلی منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو تحلیل ہو جائے گی۔

ادھر سندھ اسمبلی تحلیل ہو گئی ہے۔ منگل کو گورنر عشرت العباد نے وزیرِ اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی ایڈوائس پر سندھ اسمبلی تحلیل ہونے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ سندھ اسمبلی کی مدت پانچ اپریل تک تھی۔

خیبر پختونخوا میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر پہلے ہی اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز صوبے کے نگراں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بدھ کی شام حلف اٹھائیں گے۔

سندھ اسمبلی کی پانچ سالۂ کارکردگی

سندھ اسمبلی نےگذشتہ پانچ سال میں ایک سو پچاسی قراردادیں اور ایک سو بیالیس بل منظور کیے اور بتیس آرڈینیس کو قانون کی شکل دی۔اس دوران سب سے متنازع بل سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ 2012 تھا اور اسے ختم کرنے کے لیے ترمیمی بل پاس کیا گیا۔آخری پارلیمانی سال میں اسمبلی کا سیشن 69 دن چلا اور اس دوران 42 بل پاس کیے گئے۔اس کے علاوہ اسمبلی کے چھ ارکان کو دوہری شہریت پر مستعفی ہونا پڑا۔

سیاسی ذرائع کے مطابق سندھ کے نگراں وزیرِ اعلیٰ کے لیے پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کے نام پر متفق ہو گئی ہیں، اور کل ایک پریس کانفرنس میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کی اسمبلی تحلیل ہونے والی دوسری صوبائی اسمبلی ہوگی۔ اس سے قبل صوبہ بلوچستان کے گورنر ذوالفقار مگسی نے پیر کو صوبائی اسمبلی تحلیل کی تھی۔

تاہم خیبر پختونخوا کے برعکس بلوچستان میں تاحال نگراں سیٹ اپ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے اور صوبے میں نگراں حکومت کے قیام تک اسلم رئیسانی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے تاحال کوئی نام نہیں دیا گیا۔ صوبے میں حزبِ اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی نے عاصمہ جہانگیر، میاں عامر محمود اور حفیظ اختر رندھاوا کے نام تجویز کیے تھے، تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق میاں عامر اور عاصمہ جہانگیر نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔