’سندھ میں نگراں حکومت پر عدلیہ سے رجوع کریں گے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST

میاں نواز شریف نے کہا کہ ’ہم سندھ کے اندر گیارہ پارٹیوں کے ساتھ مل کر ا س معاملے پر عدالت کے پاس خود جائیں گے۔‘

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں ملی بھگت سے نگراں حکومتیں بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور وہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کریں گے۔

بدھ کو لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سندھ اور بلوچستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے اور جتنا ہو سکے گا اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کو سازش سمجھتے ہیں اور یہ اقدامات آئین میں بیسویں ترمیم کی روح کے منافی ہیں۔‘

مسلم لیگ نون کے سربراہ نے الزام لگایا کہ ’سندھ میں ملی بھگت سے نگراں حکومت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسی کو کوئی خبر نہیں ہوئی ۔ہم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔‘

نواز شریف نے کہا کہ ’سندھ میں چند دن پہلے ایم کیو ایم اپوزیشن میں بیٹھ گئی اور سب کو پتہ ہے کہ وہ کیوں اپوزیشن میں گئے ہیں اور ملی بھگت سے نگراں وزیرِاعلیٰ کا فیصلہ بھی ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے اور ’ہم سندھ کے اندر گیارہ پارٹیوں کے ساتھ مل کر اس معاملے پر عدالت کے پاس خود جائیں گے۔‘

"سندھ اور بلوچستان کے اندر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے اور جتنا ہو سکے ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے"

میاں نواز شریف

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ دھاندلی کا پہلا قدم ہے اور ہم انتخابات میں دھاندلی اور الیکشن کو متنازع نہیں ہونے دیں گے۔

خیال رہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم نے چار سال سے زائد عرصے تک حکومت کا ساتھ دینے کے بعد اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے چند ہفتے قبل اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا اور عددی اکثریت کی وجہ سے سندھ اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ بھی حاصل کر لیا تھا۔

اس فیصلے کو صوبے میں اپوزیشن جماعتوں نے ’نورا کشتی‘ قرار دیتے ہوئے اپنی مرضی کی نگراں حکومت کے انتخاب کی سازش قرار دیا تھا۔

نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھی ملی بھگت سے جو نگراں حکومت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ انہیں منظور نہیں ہے۔

وفاق میں نگراں وزیر اعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمارے اوپر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن ہم نے اتفاقِ رائے قائم کرنے کے لیے دوسری پارٹیوں سے مشورے کیے اور ہمارے ناموں پر تقریباً سب پارٹیاں تقربیاً متفق ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔