سندھ اسمبلی کے پانچ سالۂ کارکردگی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 11:02 GMT 16:02 PST

سنہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی سندھ کی صوبائی اسمبلی اپنی پانچ سال آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد منگل کی رات تحلیل کر دی گئی۔

ان پانچ سالوں کے دوران صوبائی اسمبلی میں تعلیم، صحت، مالی امور اور دیگر شعبوں میں اہم قانون سازی کی گئی لیکن ان برسوں کے دوران عوامی نمائندوں کی جانب سے قانون سازی میں مسلسل عدم توجہی اور عدم دلچسپی کا پہلو نمایاں رہا۔

تاہم اراکینِ اسمبلی نے قانون سازی کی بابت اپنی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیا۔

صوبائی اسمبلی کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اسمبلی اپنی معیاد کی بیشتر مدت بغیر کسی قائد حزبِ اختلاف رہی۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبائی اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ مدت کے دوران ایک سو بیالیس بل اور ایک سو پچاسی قراردادیں منظور کیں جبکہ بتیس آرڈیننسوں کو قانونی شکل دی گئی۔

سب سے متنازع بل سندھ پپلز لوکل گورنمنٹ دو ہزار بارہ تھا جسے ختم کرنے کے لیے بھی ترمیمی بل لایا گیا۔ آخری پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی کا سیشن انہتر روز چلا جس میں بیالیس بل منظور کیے گئے۔ پانچ سال کے دوران صوبائی اسمبلی کے چھ اراکین کو دوہری شہریت کی بناء پر استعفے دینا پڑے۔

پانچ سالہ مدت کے دوران زیادہ تر بل جن پر قانون سازی کی گئی وہ تعلیم اور صحت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دو، چار بلوں کے علاوہ باقی تمام بل سرکاری اور حزبِ اختلاف کی متفقہ رائے سے منظور کیے گئے۔ ان میں پپلزپارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ قاف، مسلم لیگ ہم خیال اور نیشنل پپلز پارٹی شامل تھیں۔

پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پروموشنز کا معاملہ گزشتہ کئی برس سے پی ایس پی افسران اور رینکرز کے درمیان وجۂ تنازع بنا ہوا تھا

بلوں کی قانون سازی میں ایک اہم بل سندھ ریونیو بورڈ کے قیام کا تھا جو این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے پیدا ہو جانے کے بعد منظور کیا گیا۔ اس قانون سازی کے نتیجے میں حکومت سندھ کو خدمات پر پچیس ارب روپے سالانہ ٹیکس وصول کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔

اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں سات طبی اور دیگر جامعات کے قیام کے بلوں کو منظور کیا گیا جبکہ نجی شعبے میں بھی کئی جامعات کے قیام کی منظوری دی گئی۔

اس کے علاوہ درجہ اول تا دہم تک مفت تعلیم کی سہولت، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام، رضاکارانہ طور پر انسانی اعضاء اور ٹشوز کی پیوندکاری، ترقئ اساتذہ اتھارٹی برائے تربیت، کراچی اور صوبے کے دیگر شہروں میں تعلیمی شہروں کے قیام، آرمز ریگولارائزیشن ٹو کنٹرول اینڈ ٹیک ایکشن اگینسٹ اللیگل آرمز، اور دیگر بلز بھی صوبائی اسمبلی میں منظور کیے گئے۔

حکمراں پپلزپارٹی نے اپنی حلیف جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پروموشن کے حق میں بھی ایک بل منظور کیا جس پر مسلم لیگ ف نے بھرپور احتجاج کیا۔ پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پروموشنز کا معاملہ گزشتہ کئی برس سے پی ایس پی افسران اور رینکرز کے درمیان وجۂ تنازع بنا ہوا تھا۔ تاہم قانون سازی کے بعد بھی یہ معاملہ اب بھی سلگ رہا ہے۔

سنہ دو ہزار بارہ کے اوائل میں سندھ اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب اس نے بلدیاتی آرڈیننس سنہ دو ہزار ایک کو ختم کر کے بلدیاتی آرڈیننس سنہ انیس سو اناسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔

بلدیاتی نظام

اسمبلیوں کی اپنی پانچ سالہ مدت پوری ہونے سے صرف ایک ماہ قبل یعنی پندرہ فروری کو ایم کیو ایم نے مخلوط حکوت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور پپلزپارٹی نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے میں اپنے ناراض سیاسی دوستوں اور اپنے ووٹروں کی برہمی کو کم کرنے کے لیے سندھ پپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار بارہ کو منسوخ کر کے دوبارہ بلدیاتی نظام سنہ انیس سو اناسی کو بحال کر دیا۔

اس اعلان کے بعد ایم کیو ایم نے وفاق اور صوبے میں مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم پپلزپارٹی نے اپنی حلیف جماعت کو منانے کے لیے سنہ انیس سو اناسی کے بلدیاتی نظام کے نفاذ کی تنسیخی کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں نئی قانون سازی کے لیے ایم کیو ایم اور پپلزپارٹی کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوا۔

دونوں جماعتوں میں طویل مذاکرات کے بعد اسمبلی کے ذریعے سندھ پپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار بارہ منظور کیا گیا۔ اس قانون سازی کے نتیجے میں حکمراں پپلزپارٹی کو قوم پرست جماعتوں، اے این پی، این پی پی، مسلم لیگ ف اور مسلم لیگ قاف نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سلسلے میں صوبائی سطح پر عوامی مہم کا آغاز کیا گیا۔

اس معاملے پر صوبے کی مخلوط حکومت میں شامل اے این پی، این پی پی، مسلم لیگ ف اور مسلم لیگ قاف کے چند اراکین نے پپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کی اور صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف میں بیٹھ گئے۔

اسمبلیوں کی اپنی پانچ سالہ مدت پوری ہونے سے صرف ایک ماہ قبل یعنی پندرہ فروری کو ایم کیو ایم نے مخلوط حکوت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور پپلزپارٹی نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے میں اپنے ناراض سیاسی دوستوں اور اپنے ووٹروں کی برہمی کو کم کرنے کے لیے سندھ پپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار بارہ کو منسوخ کر کے دوبارہ بلدیاتی نظام سنہ انیس سو اناسی کو بحال کر دیا۔

اور جاتے جاتے صوبائی اسمبلی نے اپنے ارکین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں مجموعی طور پر ساٹھ فیصد اضافے کا بل کر لیا۔

اس قانون کے تحت نہ صرف اراکینِ اسمبلی کے مشاہرے اور مراعات میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کا اطلاق سنہ دو ہزار گیارہ سے ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔