توہینِ رسالت: مزید قانون سازی کی سفارش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 19:08 GMT 00:08 PST

کانفرنس میں مقررین کا کہنا تھا کہ معاشرے کو منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نفرتوں کے سوداگروں پر قابو پایا جا سکے

پاکستان کے شہر لاہور میں پاکستان علما کونسل کے زیرِ انتظام منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس کے اعلامیے میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے غلط استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں مزید قانون سازی کی سفارش کی گئی ہے۔

بدھ کو منعقدہ اس کانفرنس میں متعدد مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی جس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جو مولانا طاہر اشرفی نے پڑھ کر سنایا۔

کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اس کانفرنس کے شرکا 295 سی کے قانون کے احترام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات محسوس کرتے ہیں کہ بعض عناصر بعض اوقات اس قانون کو غلط استعمال بھی کرتے ہیں لہذا اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے لیے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو الیکشن کے بعد اس بارے میں قانون سازی کے لیے متفقہ لائحہ عمل بنانا ضروری ہے تاکہ توہین رسالت کرنے والا کوئی ملزم سزا سے نہ بچ سکے اور کوئی بے گناہ رسول کے پاکیزہ نام پر کوئی کسی کے انتقام کا نشانہ نہ بن سکے۔

اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس طرح کی کانفرنسیں ملک کے تمام بڑے شہروں میں منعقد کی جائیں گی۔

پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین مولانا طاہر محمود اشرفی نے کانفرنس کے آغاز میں اس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانفرنس کے شرکا کے سامنے ایک سوال رکھ رہے ہیں کہ کس طرح پاکستان بھر میں مذہب کے نام پر ہونے والی قتل وغارت گری اور ظلم کو روکا جا سکتا ہے اور ملک میں پھیلی ہوئی خوف کی فضا کو کون بدلےگا۔

مولانا طاہر محمود اشرفی نے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ انتخابات سر پر ہیں اور لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ انتخابات سے دور رہیں کیونکہ بہت خون بہنے والا ہے کیا ہم اس کانفرنس میں یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم ظالم کو ظلم سے روکنے کی کوشش کریں گے اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

اس کانفرنس میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، مسلمانوں کے مختلف مکتبہء فکر کے علما اور دیگر مذاہب جیسے عیسائی سکھ اور ہندو جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نےملک میں شدت پسندی کے بڑھنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قانون کی عملداری نہ ہونے، خراب حکمرانی اور حکومت کی اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے سے یہ مسائل بڑھ رہے ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ فرقہ واریت اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف تشدد جیسے تمام مسائل کا حل علما مل کر تلاش کر سکتے ہیں اور اس میں جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے گی۔

کانفرنس میں موجود مقررین کا کہنا تھا کہ معاشرے کو منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نفرتوں کے سوداگروں پر قابو پایا جا سکے۔

کانفرنس میں موجود پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلمان چاہے مکمل مذہبی فرائض ادا کریں یا ان میں کوتاہی کریں لیکن وہ اپنے دین اور رسول کی توہین پر ہیجانی اور جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوزف کالونی میں حملہ آوروں کے خلاف ان کی حکومت کارروائی کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونے والے واقعات ان واقعات کے ردِ عمل بھی ہوتے ہیں جو باہر دنیا میں اسلام کے خلاف کیے جاتے ہیں۔

لاہور کے بشپ الیگزینڈر جون ملک نے کانفرنس میں مسیحی برادری پر ہونے والے مظالم کی ایک وجہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال بتایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے در پردہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کا قبضہ کرنے والے گروہوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے جیسا کہ جوزف کالونی میں ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔