’نگراں وزیر اعظم کے معاملے کو کمیٹی میں نمٹائیں گے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 12:38 GMT 17:38 PST

سردار یعقوب ناصر نے کہا کہ مسلم لیگ نواز لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے

پاکستان کے نگراں وزیر اعظم کے چناؤ کے لیے تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں لمبی بحث کے باوجود نگراں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کسی شخصیت کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔تاہم کمیٹی کے رکن خورشید شاہ نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو کمیٹی میں ہی نمٹائیں گے۔

جمعرات کی سہ پہر کو اجلاس کے بعد میڈیا سے نگراں وزیراعظم کے چناؤ کےحوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن میں یہ بات نہیں جائی گی۔ ہم اس کا یہیں فیصلہ کریں گے اور جس طرح آپ لوگوں کو پہلے سرپرائز دیا تھا اس دفعہ بھی سرپرائز دیں گے۔‘

اس کمیٹی میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے سینیٹر پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور سردار مہتاب عباسی اور سردار یعقوب ناصر اور حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور فاروق ایچ نائیک کے علاوہ اے این پی کے غلام احمد بلور اور مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت حسین شامل ہیں۔

یہ کمیٹی جن چار ناموں پر غور کر رہی ہے ان میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، رسول بخش پلیجو، جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو اور ڈاکٹر عشرت حسین شامل ہیں۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی ہے اور ہم کافی آگ بڑھے ہیں۔‘

"بڑی بد قسمتی کی بات ہوگی کہ اگرسیاسی لوگ اپنے فیصلے غیر سیاسی لوگوں سے کرائیں۔مجھے پوری امید ہی کہ کل ہم اس کا حل نکال لیں گے۔ سیاسی لوگ سیاسی فیصلے کریں اور دوسروں کے بل بوتے پر نہ رہے"

چوہدری شجاعت حسین

انہوں نے کہا پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں نگراں وزیر اعظم کے لیے جو بنیادی اہلیت رکھی گئی ہے جس شخصیت کو نامزد کریں گے وہ اس پر پورا اتریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار مہتاب عباسی نے بدھ کو اس پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد نگراں وزیراعظم کے لیے بنیادی اہلیت طے ہونے کے بارے میں کہا تھا کہ ’ہم ایسی شخصیت کو چنیں گے جو غیر جانبدار ہوں، ایماندار ہوں، انتظامی امور میں تجربہ کار ہوں اور کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہو اور ملک میں اچھی شہرت رکھتے ہوں۔‘

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر خورشید نے کہا کہ ’اگر کوئی سیاستدان یہ بات کرتے ہیں کہ نگراں وزیر اعظم کے نام پر پارلیمانی کمیٹی کے اندر اتفاق نہیں ہوگا اور یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا تو ہم ان خیالات سے اتفاق نہیں کرتے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر پارلیمان نے یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہمارے پاس جو دو دو نام وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما نے بھیجیں ہیں ہم ان پر بحث کریں اور طے شدہ بنیادی اہلیت پر پورا اترنے والی شخصیت کو نامزد کریں۔

خورشید شاہ نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے تجویز کردہ چاروں ناموں پر بحث کی ہے اور سوالات اٹھائے ہیں جس پر کل مزید بات ہوگی۔

خورشید شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انتخابات تعطل کا شکار نہیں ہونگے اور اگر ہم نے کل تک نگراں وزیر اعظم کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا تو الیکشن کمیشن نے دو دن کے اندر یہ فیصلہ کرنا ہی کرنا ہے۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کےسربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ’بڑی بد قسمتی کی بات ہوگی کہ اگرسیاسی لوگ اپنے فیصلے غیر سیاسی لوگوں سے کرائیں۔ مجھے پوری امید ہی کہ کل ہم اس کا حل نکال لیں گے۔ سیاسی لوگ سیاسی فیصلے کریں اور دوسروں کے بل بوتے پر نہ رہیں۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار یعقوب ناصر نے کہا کہ مسلم لیگ نواز لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے اور یہ ملک و قوم کا معاملہ ہے اور اس پر کل دو نشستیں ہونگی جس میں مزید بات ہوگا اور اگر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس گیا تو الیکش کمیشن بھی ہم سیاستدانوں نے بنایا ہے اور وہ بھی ہمارا ہی ہے۔

خیال رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے چھ ممبران کی رائے یا دو تہائی اکثریت سے ملک کے لیے نگراں وزیرِاعظم چنا جائے گا۔

پارلیمانی کمیٹی کا تیسرا اور اخری اجلاس کل ہوگا جہاں اگر نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو پھر الیکشن کمیشن وزیراعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کی طرف سے بھیجے گئے ناموں میں کسی ایک کو ملک کے نگراں وزیراعظم کے طور پر چنے گی۔

یاد رہے کہ آئین کے تحت پارلیمانی کمیٹی کے پاس کسی ایک نام پر اتفاق کے لیے تین دن کا وقت ہے اور ایسا نہ ہونے پر الیکشن کمیشن ہی یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا کہ نگراں وزیر اعظم کون بنے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔