جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 15:46 GMT 20:46 PST

پاکستان میں’ کون کیا ہے‘ نامی کتاب میں اگر آپ جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی کا نام تلاش کریں گے، تو ان کا نام معذور افراد کے لیے بیس سال سے سرگرم شخصیت کے طور پر ملے گا، لیکن سرکاری ریکارڈ میں ان کی نئی شناخت سندھ کے نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر شامل ہوگئی ہے۔

زاہد قربان علوی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ صوبے کے پہلے سربراہ ہیں جن کی مادری زبان سندھی نہیں ہے۔ ان کی پیدائش 21 اگست 1941 میں کراچی میں ہوئی، سینٹ پیٹرک اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

بہتر سالہ ریٹائرڈ جسٹس اپنے دورِ طالب علمی میں شارٹ اسٹوری رائٹر بھی رہے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان امریکن کلچرل سینٹر کے صدر اور انسانی حقوق کمیشن کے رکن کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

1966 میں ایل ایل بی کے بعد انہوں باقاعدہ وکالت کا آغاز کیا، 1998 میں انہیں سندھ ہائی کورٹ میں جج تعینات کیا گیا، جنرل پرویز مشرف جب اقتدار پر قابض ہوئے اور انہوں نے تمام جج صاحبان سے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لیا تو اس حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والوں میں جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی بھی شامل تھے۔

جسٹس قربان علوی نے 2003 میں ریٹائرمنٹ حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ وکالت کا رخ کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت میں وہ ایک نئے کردار میں سامنے آئے، سندھ کی حکومت نے جب کبھی بھی کسی بڑے واقعے پر ٹربیونل بنایا، اس کی سربراہی کی ذمہ داری جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی کو سونپی گئی اور انہوں نے حکومت کو مشکلات سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

دریائے سندھ کو ٹوڑھی بند کے مقام پر شگاف اور نتیجے میں لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہونے کی تحقیقات جسٹس ریٹائرڈ قربان کے ذمے تھی، اسی طرح ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والے سیاسی، مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور عام شہریوں کے تعین کے فرائض بھی انہوں نے سرانجام دیے اور ان کی سفارش پر حکومت نے معاوضے کی ادائیگی کی۔

بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری میں لگنے والی آگ کے واقعے کی تحقیقات بھی انہوں نے کی، مگر ان کی تحقیقات کی رپورٹ باضابطہ طور پر سامنے نہیں آسکی مگر جسٹس ریٹائرڈ قربان نے یہ رپورٹ سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کو جمع کرادی تھی۔

ان دنوں وہ لینڈ ریفارمز کمیٹی کی سربراہی کر رہے تھے، اس کمیٹی نے سستے داموں پر دی گئی سرکاری زمینوں کی مارکیٹ ویلیو مقرر کرکے وصولی کرنا تھا۔

جسٹس قربان علوی نابینا طالب علموں کے اسکول میں پڑھاتے بھی رہے ہیں، اس کے علاوہ کئی فلاحی اداروں کے اعزازی رکن بھی ہیں۔

اپنی شخصیت میں بے ضرر اور دھیمے لہجے کے مالک جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی کو متحدہ قومی موومنٹ نے بھی قبول کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کا اعتراض سامنے آیا ہے کہ ان کا جھکاؤ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب رہا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی کے دادا حاتم علی کراچی کے دوسرے مسلم میئر تھے، جبکہ ان کے کزن حمزہ علوی مارکسسٹ اور سوشیالوجسٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔