ملالہ کے لیے ’آزادیِ اظہار‘ ایوارڈ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 00:21 GMT 05:21 PST

ملالہ نے سکول جانا شروع کر دیا ہے

پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو لندن میں آزادیِ اظہار کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

یہ تقریب انڈیکس نامی تنظیم نے منعقد کی تھی اور اس میں ملالہ کے علاوہ شامی کارکن بیسل خرتابل، یونانی صحافی کوسٹاس ویکسی وینس اور جنوبی افریقہ کی فوٹوگرافر زینیل مہولی کو بھی انعام دیا گیا ہے۔

انڈیکس آزادیِ اظہار کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے جسے 40 سال قبل قائم کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم ہر سال چار مختلف شعبوں میں انعامات دیتی ہے۔

انڈیکس کے سی ای او کرسٹی ہیوز نے کہا، ’اس سال کے فاتحین نے سخت مشکلات کے باوجود ناقابلِ یقین بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ان سب لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو آزادیِ اظہار کی قدر کرتے ہیں۔‘

انڈیکس کے سربراہ جوناتھن ڈمبل بی نے اس موقعے پر کہا کہ ’یہ تقریب آزادیِ اظہار کا جشن ہے، وہ آزادیِ اظہار جو لکھنے، بلاگ کرنے، ٹویٹ کرنے، احتجاج کرنے اور مصوری، ادب اور موسیقی تخلیق کرنے کا بنیادی انسانی حق ہے۔‘

ملالہ کو ایڈووکیسی ایوارڈ دیا گیا۔ ملالہ خود تقریب میں موجود نہیں تھیں اس لیے یہ ایوارڈ ان کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے وصول کیا۔

انھوں نے اس موقعے پر کہا، ’میں دنیا کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ میں نے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ بطور ایک باپ میں نے صرف ایک کام کیا، میں نے اسے اظہار کی آزادی دی۔ میں تمام والدین سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اظہار کی آزادی دیں۔ اظہار کی آزادی سب سے اہم حق ہے۔ یہی ہر مسئلے کا حل ہے۔‘

"اس سال کے فاتحین نے سخت مشکلات کے باوجود ناقابلِ یقین بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ان سب لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو آزادیِ اظہار کی قدر کرتے ہیں۔"

انڈیکس کے سی ای او کرسٹی ہیوز

ڈجیٹیل فریڈم ایوارڈ حاصل کرنے والے بیسل خرتابل شامی سافٹ ویئر انجینیئر ہیں، جنھیں شام کی حکومت نے گذشتہ ایک سال سے قید کر رکھا ہے۔

انڈیکس آرٹ ایوارڈ زینیل مہولی کو دیا گیا جو جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر ہیں۔ انھوں نے سیاہ فام ہم جنس پرست خواتین کی تصاویر بنائی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں بہت سی ہم جنس پرست خواتین کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

صحافت کا انعام یونانی تحقیقاتی صحافی کوسٹاس ویکسی وینس کو ملا۔ انھوں نے 2012 میں ان دولت مند یونانیوں کی فہرست جاری کی تھی جن کے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں اکاؤنٹ ہیں۔ اس کی پاداش میں ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پچھلے سال اکتوبر میں ملالہ یوسفزئی کو طالبان نے اس وقت گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ سکول جا رہی تھیں۔

برمنگھم کوئن الزبیتھ ہسپتال میں علاج کے بعد اب انھوں نے سکول جانا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ منگل کو ملالہ کا ایجبیسٹن ہائی سکول میں پہلا دن تھا اور انھوں نے اس دن کو اپنی زندگی کا اہم ترین دن قرار دیا۔

ملالہ نے کہا، ’میرے خیال میں میری زندگی کا سب سے اچھا دن واپس سکول جانے کا ہے۔ میرا خواب ہے کہ تمام بچے سکول جاسکیں۔ میں سکول یونیفارم پہن کر فخر محسوس کر رہی ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔