نگراں وزیر اعظم پر اتفاق رائے نہیں ہوا، فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 17:05 GMT 22:05 PST

پاکستان میں نگراں وزیراعظم کے تقرر کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی تین روز کی مشاورت کے بعد نگراں وزیر اعظم پر اتفاق نہیں کر سکی جس کے بعد اب الیکشن کمیشن آف پاکستان فیصلہ کرے گا۔

یہ معاملہ جمعے کی شب کو الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن دو دن میں نگراں وزیراعظم کے نام کا فیصلہ کرے گا۔

اس سے قبل نگراں وزیر اعظم کے چناؤ کے لیے تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے تیسرے اور آخری دن کا آخری سیشن رات نو بجے شروع ہوا جو ایک گھنٹہ جاری رہنے کے بعد ختم ہوا۔

اتفاق رائے نہ ہونے پر پارلیمانی کمیٹی کے اراکین نے یہ اعلان میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

پارلیمانی کمیٹی نے جن چار ناموں پر غور کیا ان میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، رسول بخش پلیجو، جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو اور ڈاکٹر عشرت حسین تھے۔

الیکشن کمیشن وزیراعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کی طرف سے بھیجے گئے ان ناموں میں کسی ایک کو ملک کے نگراں وزیراعظم کے طور پر چنے گا۔

پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے سب سے پہلے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار سیاستدانوں کو موقع ملا کہ وہ اتفاقِ رائے پیدا کر سکیں مگر وہ اس میں ناکام رہے۔

سید خورشید شاہ نے پارلیمانی کمیٹی کے دیگر ممبران کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے پوری کوشش کی کہ نگراں وزیر اعظم پر اتفاقِ رائے ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں کسی نام پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور اس لیے اب اس معاملے کو الیکشن کمیشن بھیجا جا رہا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے ممبر اور سابق وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں ایک تبدیلی کی ضرورت ہے کہ اگر تجویز کردہ ناموں پر اتفاق رائے نہیں ہوتا تو کمیٹی مزید ناموں کو زیر غور لاسکے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس اچھے ماحول میں ہوئے ہیں اور کسی بھی تجویز کیے گئے نام پر کیچڑ نہیں اچھالا گیا اور ہم اس وقت بھی اکٹھے آپ کے سامنے موجود ہیں اور یہ سیاستدانوں کی ناکامی نہیں ہے مگر اس کمیٹی کا سکوپ محدود تھا اس لیے کسی فیصلے پر نہیں پہنچا جا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کیمشن جس کو بھی نگراں وزیر اعظم مقرر کرتی ہے اس پر کسی بھی جماعت کو اعتراض نہیں ہو گا جس پر حکومتی نمائندوں نے اثبات میں سر ہلایا اور اسی بات کی توثیق کی۔

سابق وزیرِ قانون فاروق ایچ نائک نے آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلا تجربہ تھا اٹھارہویں ترمیم کے بعد کہ پارلیمانی کمیٹی کو یہ طاقت دی گئی کہ وہ نگراں وزیراعظم کا چناؤ کرے جب پہلے لیڈر آف دی ہاؤس اورلیڈر آف دی اپوزیشن نے کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا تو پھی آرٹیکل دو سو چوبیس (اے ) کے نیچے کمیٹی کے پاس دو دو نام پیش کئے گئے جن پر تین دن تک کمیٹی بات چیت کرتی رہی‘۔

انہوں نے آئین میں موجود حدود کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں ہم بڑی محنت کی بڑے اچھے ماحول میں گفتگو کی مگر اب یہ بھی ایک نتیجہ سامنے آیا کیونکہ یہ پہلا تجربہ تھا یہ جو آرٹیکل دو سو چوبیس (اے) ہے اس کے اندر کچھ خلاء ہیں جن کو آنے والی پالیمنٹ کو پر کرنا پڑے گا۔

اس خلاء کی تخصیص کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’خاص طور پر اگر کہیں تعطل پیدا ہو جاتا ہے تو کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ خود اور اچھے ناموں کا تجزیہ کرے اس کے بارے میں بحث کرے اور ایک فیصلے پر پہنچ سکے۔کیونکہ تین دن تک اگر صرف چاروں ناموں پر ہی تجزیہ کرتے رہے بحث کرتے رہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک یا دو دن میں ختم ہو سکتے ہیں اوریہ وقت کے ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔‘

انہوں نے آنے والی پارلیمان سے استدعا کی کہ وہ ’اس آئین کی شق کو دیکھیں اور اس کے اندر اصلاح کریں تاکہ اگلی دفعہ جب نگراں وزیراعظم کا چناؤ کرنا ہو تو یہ صورتحال نہ بنے جو آج بنی ہے اور جس کا سامنا ہمیں کرنا پڑا۔‘

انہوں نے اگلے مرحلے کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ قوم اج انتطار کر رہی تھی کہ کوئی فیصلہ ہو گا مگر فیصلہ نہ ہو سکا۔ مگر تیسرا مرحلہ جو الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے جس کی آئین اجازت دیتا ہے اب یہ چاروں نام ان کے پاس جائیں گے ان کے پاس دو دن ہیں ان چاروں میں سے ایک کا چناؤ کرلیں اور وہ چناؤ کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے آخر میں ناکاما کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہی کہوں گا کہ ہم ناکام ہو گئے یہ ہماری ناکامی ہے کہ ہم بیٹھ کر ایک شخص کے اوپر اتفاق رائے نہ کر سکے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔