جنرل مشرف کی سیاست میڈیا کے کندھوں پر

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 مارچ 2013 ,‭ 12:04 GMT 17:04 PST

پاکستان کے سابق فوجی سربراہ اور صدر جنرل پرویز مشرف مک واپسی پر کراچی کی اسی شارع فیصل سے اپنا سفر طے کریں گے جو سڑک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے لیے ممنوع بن گئی تھی اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو پر حملہ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے نجی نیوز چینلز اور اخبارات میں جنرل مشرف کی آمد پر بڑے پیمانے پر تشہیر جاری ہے۔ جمعہ کو جب سابق صدر کی آمد کی خبریں جاری تھیں تو اس وقت پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی بدامنی کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ وہ بدامنی جس کا حالیہ آغاز 12 مئی 2007 کو ہوا تھا۔

اس روز چیف جسٹس کے استقبال کے لیے جانے والے جلوسوں پر حملے کیے گئے اور شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ان واقعات سے شہر میں لسانی اور سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ہلاکتوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں سعودی عرب کی مالی معاونت سے تعمیر کی گئی شارع فیصل پر کارساز کے مقام پر اٹھارہ اکتوبر 2007 کا ایک یادگار بھی موجود ہے جو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ جنرل مشرف کی ہدایت کے باوجود سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو وطن لوٹی تھیں اور ان کے استقبالیہ جلوس پر حملہ ہوا۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ذہنوں میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے اصل حقائق سامنے نہ آنے اور اس میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر کئی سوالات موجود ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ الزام تحریک طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کے سر پر ڈال دیا گیا تھا جس کو اس وقت پیپلز پارٹی نے تسلیم نہیں کیا تاہم بعد میں وفاقی وزیر رحمان ملک نے بھی یہ موقف اختیار کیا۔

سندھ اسمبلی کے ارکان کو دی گئی بریفنگ میں رحمان ملک نے بیت اللہ محسود پر الزام ثابت کیا اور منصوبہ بندی میں سابق فوجی صدر جنرل مشرف کو بھی مشکوک بنایا اور آگاہ کیا کہ مشرف کو گرفتار کرکے وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔ لیکن ان کا یہ تیر بھی خطا ہوگیا۔

جنرل مشرف کی وطن میں موجودگی کارکنوں کے سوالات کو شدید بناسکتی ہے جو پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

بیرون ملک سے جنرل مشرف نے جب آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیا تو کراچی میں ان کی تنظیم کی باگ ڈور ایک ریٹایئرڈ برگیڈیئر ھدیٰ مہدی نے سنبھالی۔ محمد علی جناح کی مزار کے قریب ایک محل نما دفتر بھی قائم کیا گیا۔ جنرل مشرف کے دور حکومت میں یہ برگیڈیئر صوبہ سندھ میں اتحادی جماعتوں کے معاملات کی نگرانی کیا کرتے تھے۔

سندھ کی تحصیل سامارو کے سابق ناظم اور ریٹائرڈ انجنیئر غلام مصطفیٰ خاصخیلی دوسری شخصیت تھے جو جنرل مشرف کے لیے سرگرم رہے اور ان کی جماعت کو اندرون سندھ پھیلانے کی کوشش کی۔ سندھ میں خاصخیلی برادری ایک قابل ذکر تعداد میں موجود ہے اور اسی کا سہارا غلام مصطفیٰ خاصخیلی نے لیا۔

ایک مذہبی ٹی وی چینل پر پروگرام کے میزبان غلام مجتبیٰ بھی میڈیا میں آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک محافظ کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے جنرل مشرف کو پارٹی سے نکال کر قیادت خود سنبھالنے کا اعلان کردیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے لیے مشکل

سندھ اسمبلی کے ارکان کو دی گئی بریفنگ میں رحمان ملک نے بیت اللہ محسود پر الزام ثابت کیا اور منصوبہ بندی میں سابق فوجی صدر جنرل مشرف کو بھی مشکوک بنایا اور آگاہ کیا کہ مشرف کو گرفتار کرکے وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔ لیکن ان کا یہ تیر بھی خطا ہوگیا۔ جنرل مشرف کی وطن میں موجودگی کارکنوں کے سوالات کو شدید بناسکتی ہے جو پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، علی محمد مہر، لیاقت جتوئی، ماروی میمن اب مسلم لیگ نواز میں شمولیت کرچکے ہیں یا اس کے اتحادی ہیں۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ تاحال جنرل مشرف کی حمایتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف کراچی میں لینڈ کر رہے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کراچی سے انتخابات لڑنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ امیروں کی بستی ڈیفنس اور متوسط طبقے کے علاقے پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے این اے 250 سے امیدوار ہوں گے۔ تحریک انصاف بھی اس حلقے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ آخری بار یہاں سے متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخت شجاعت کامیاب ہوئی تھیں۔

سندھ کے علاوہ بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کیا جنرل مشرف متحرک سیاسی کردار ادا کرسکیں گے؟

پنجاب میں نواز لیگ ملک میں موجود تمام برائیوں کا ذمے دار جنرل مشرف کو قرار دیتی رہی ہے۔ وہ جنرل مشرف کی واپسی پر ناخوش بھی ہے۔

خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے وہاں سیاسی سرگرمیاں ممکن نہیں۔ اس صوبے میں افغانستان پر حملے میں امریکہ کا ساتھ دینے، ڈرون حملوں اور لال مسجد آپریشن کی وجہ سے جنرل مشرف کے خلاف جذبات موجود ہیں۔

بلوچستان کے قومپرست چاہے وہ پہاڑوں پر موجود سرمچار ہوں یا سیاسی میدان میں موجود جماعتیں، بلوچستان کے موجودہ حالات کا ذمے دار مشرف کو سمجھتی ہیں۔ اسی لیے اس صوبے میں بھی انہیں دشواری ہوگی۔

ان تینوں صوبوں میں ان کے سابق اتحادی تو ہیں مگر جماعت کا کوئی وجود نہیں۔ اس صورتحال میں جنرل مشرف کی سیاست میڈیا کے کندھوں پر ہی چل سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔