سابق فوجی صدر مشرف کے عزائم اور اہداف

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 مارچ 2013 ,‭ 09:19 GMT 14:19 PST

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف بظاہر معمولی اور حقیقت پسند ہدف کے ساتھ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور وہ پاکستانی پارلیمان کا رکن بننا ہے۔

پرویز مشرف کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان لوٹنے کے بعد کسی بڑی اور غیر معمولی سیاسی یا انتخابی مہم میں شامل نہیں ہوں گے۔ وہ چند ایک جلسے ضرور کریں گے اور پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں سے رابطے میں بھی رکھیں گے لیکن یہ سب ایک محتاط انداز اورمحدود سطح پر ہی ہوں گے۔

ان کی تمام تر توجہ کا مرکز اپنے آپ کو پاکستان کی نو منتخب قومی اسمبلی کا رکن منتخب کروانا رہے گا۔

پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ اہم پاکستانی حلقوں میں یہ بات بہت وثوق سے کہی جا رہی ہے کہ وہ چترال سے قومی اسمبلی کا انتخاب جیت جائیں گے جہاں اپنے دور حکومت میں انہوں نے بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے تھے جن کی وجہ سے مقامی افراد میں خاصے مقبول ہیں۔

وہ اس دوران اس حلقے کے دورے بھی کریں گے اور عوامی جلسوں سے خطاب بھی کریں گے لیکن اس دوران ذاتی تحفظ ان کی پہلی ترجیح رہے گی۔

سکیورٹی

سابق صدر کا اندرونی حفاظتی حصار صدر کے ذاتی اور نجی سکیورٹی گارڈز پر مشتمل ہو گا

حکومت نگراں ہو یا مستقل، کسی سیاسی جماعت کی ہو یا مکمل طور پر غیر سیاسی، پرویز مشرف کو سرکار کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہو گا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے انہوں نے اپنے لیے سرکاری حفاظتی انتظامات کے لیے ’متعلقہ‘ حکام سے یقین دہانیاں حاصل کر لیں ہیں۔

لیکن پرویز مشرف کے لیے اس سے بھی زیادہ اطیمنان بخش یہ بات ہے کہ انہیں سرکار کی جانب سے فراہم کردہ حفاظتی اقدامات پر بہت زیادہ انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

کلِک ’فوج جانتی ہے مجھے کیا سپورٹ دے گی اور وہ دیں گے‘

اس کی وجہ وہ جدید اور قابل بھروسہ حفاظتی نظام ہے جو پرویز مشرف اپنے ساتھ لے کر پاکستان آئیں گے۔ یہ حفاظتی نظام جدید آلات اور ماہر افراد پر مشتمل ہے جس کے انچارج وہی سکیورٹی ماہر ہیں جو اس وقت بھی پرویز مشرف کے سکیورٹی انچارج تھے جب وہ صدر اور فوجی سربراہ کے عہدوں پر براجمان تھے۔

اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ پرویز مشرف سرکار کی جانب سے فراہم کردہ حفاظتی انتظامات استعمال نہیں کریں گے۔ خصوصی پولیس کے دستے سابق صدر کی حفاظت پر معمور تو ہوں گے لیکن وہ بیرونی سکیورٹی حصار تک ہی محدود ہوں گے۔ سابق صدر کا اندرونی حفاظتی حصار صدر کے ذاتی اور نجی سکیورٹی گارڈز پر مشتمل ہو گا۔

مقدمات

منطق یہی کہتی ہے کہ فوج اپنے سابق سربراہ کو سیاستدانوں کے ہاتھوں بے توقیر بھی نہیں ہونے دے گی

پرویز مشرف نے عدالت سے حفاظتی ضمانت حاصل تو کر لی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ عارضی ہے۔ جو ضمانت مستقل ہے وہ عدالت نہیں بلکہ بعض دیگر حلقوں کی جانب سے دی جا چکی ہے۔

ان حلقوں میں سب سے نمایاں پرویز مشرف کی سب سے بڑی مخالف سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے جو اب اس قوجی صدر کے خلاف مہم چلانے میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتی جس نے چودہ برس قبل اس کی حکومت برطرف کی تھی۔

میاں نواز شریف سےچند روز قبل جب پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر پرویز مشرف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے، کال کوٹھڑی میں یا جلا وطن ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ کسی کو ہتھکڑی لگتا دیکھنے یا جلا وطن ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔

نواز شریف کے علاوہ بھی بعض ضمانت کار ہیں جنہوں نے پریس کانفرنسوں کے بجائے بعض دیگر فورمز پر اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں بعض اطلاعات کے مطابق غیر ملکی مہمان بھی شامل ہیں۔

ویسے بھی جو فوج اپنے تین نسبتاً جونیئیر ریٹائرڈ افسران کو اپنے ہی ایک ادارے (این ایل سی) میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی تفتیش کے سلسلے میں نیب یا پولیس کے شکنجے سے پچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے تو منطق یہی کہتی ہے کہ وہ ادارہ اپنے سابق سربراہ کو سیاستدانوں کے ہاتھوں بے توقیر بھی نہیں ہونے دے گا۔

سیاسی اتحاد

پرویز مشرف کے سیاسی اتحادی کون ہوں گے؟اس سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ق) میں اب اتنی جان نہیں رہی کہ پرویز مشرف اس کے کاندھوں پر بھروسہ کر سکیں۔البتہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ پرویز مشرف کے رابطے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ پرویز مشرف ’اہل زبان‘ ہیں اور کراچی میں رہائش اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد ان کے لیے قومی اسمبلی تک رسائی کی ضمانت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی سیاست میں اہم کردار کی امید بھی دیتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔