’صرف دس اور گیارہ بجے کا ٹائم خالی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 مارچ 2013 ,‭ 18:32 GMT 23:32 PST

پاکستان کےسابق فوجی صدرجنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کی وطن واپسی کےاعلان کے بعد سے دبئی آل پاکستان مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ ہے۔

پرویزمشرف صاحب ڈاؤن ٹاؤن دبئی میں رہائش پذیر ہیں اور پارٹی کا دفتر بھی یہیں ہے۔

دبئی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ ڈاؤن ٹاؤن دبئی کیسا علاقہ ہے تواس نےحیران ہو کر کہا کہ ’کیا آپ کو نہیں معلوم کہ یہ دبئی کے مہنگے ترین علاقوں میں سے ہے۔ وہ برج خلیفہ کےقریب ہی واقع ہے۔ جناب وہاں پر تو بہت امیر لوگ رہتے ہیں۔‘

دبئی میں انتالیس منزلہ چھ عمارتوں کا کمپلیکس ساؤتھ رج ٹاورز کےنام سےجانا جاتا ہے۔ اس کے ٹاور نمبر چھ کی پچیسویں منزل پر آل پاکستان مسلم لیگ کا دفتر قائم کیاگیا ہے جبکہ اس ٹاور کا پینٹ ہاؤس پرویز مشرف کی اقامت گاہ ہے۔

میڈیا اور اپنی پارٹی کے عہدیداران سے وہ پچیسویں منزل پر واقع پارٹی کے دفتر میں ملاقات کرتے ہیں۔ اس ٹاور کے نیچے خصوصی سکیورٹی کا انتظام کیاگیا ہے اور گارڈز ہر آنے جانے والی گاڑی کا نمبر تک نوٹ کر رہے تھے۔

صدر مشرف کی دبئی میں کھلےعام سیاسی سرگرمیوں کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں عرب حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے کیونکہ دبئی میں کھلےعام سیاسی سرگرمیاں اس کے بغیر ہو نہیں سکتی۔

اس سے پہلےمیں تین مرتبہ اس دفتر میں جا چکا ہوں مگر اس قدر بھیڑ وہاں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

وہاں موجود ایک صاحب کو عمران خان سے شکایت تھی کہ اس نے تئیس مارچ کو جلسہ رکھ کر مشرف صاحب کی واپسی میں ایک دن کی تاخیر کروائی۔

مشرف صاحب کے حمایتیوں کی آمد کا سلسہ جاری تھا کہ سابق صدر مشرف اس دفتر میں تشریف لے آئے۔

ان کا آنا تھا کہ وہاں موجود کچھ افراد نے ان کے حق میں نعرے بازی شروع کردی جس پر سابق صدر کے سٹاف نے انہیں فوراً چپ ہونے کا کہا کہ ’یہ پاکستان نہیں ہے اور دبئی میں ایسی سیاسی نعرے بازی ممنوع ہے‘۔ اس پر یکلخت سناٹا سا چھا گیا۔

پرویز مشرف ڈرائنگ روم سے نکل کر ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دینے دوسرے کمرے میں چلےگئے تو وہاں موجود لوگ خیالی پلاؤ پکانے لگے۔

ایک خاتون کا خیال تھا کہ وہ انتخابات میں تیس چالیس نشستیں جیت ہی جائیں گے مگر انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے بعد وہ کس جماعت سے اتحاد کر کے حکومت بنائیں گے۔

اس دوران پرویز مشرف کے میڈیا کوآرڈینیٹر اخبارات میں ہفتے اور اتوار کو چھپنے والے اشتہارات کی کاپی دیکھ کر اسے درست کررہے تھے۔ دوسری جانب ایک کمرے میں پاکستان کے کئی صحافیوں کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کے پرنٹ نکالے جا رہے تھے۔

اسی دوران کسی کا فون بجا جسے سن کے اس کمرے میں موجود ایک صاحب نے خوشی سے چلاتے ہوئے ایک نجی ٹی وی چینل کی اینکر کا نام لیا اور کہا کہ ’مبارک ہو انہوں نے اپنی آمد کی تصدیق کردی ہے‘۔

وہاں موجود افراد کچھ صحافیوں کو دبئی آنے کے لیے منا بھی رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ بزنس کلاس کی نشست نہیں دے سکتے کیونکہ وہ پہلے ہی بھر چکی ہیں۔

اسی دوران ایک صاحب نے کہا کہ سارے انٹرویوز طے ہوگئے ہیں اب صرف پاکستانی وقت کے دس اور گیارہ بجے کا ٹائم خالی ہے کسی اینکر سے بات کر کے اس دوران میں کوئی انٹرویو رکھوا دو۔

وہاں موجود لوگوں سے بات کرکے اندازہ ہوا کہ ان میں سے بیشتر پاکستان سے باہر ہی رہتے ہیں۔ کوئی امریکا سے آیا تھا تو کوئی لندن سے۔ ان لوگوں سے گفتگو کرکےمحسوس ہوا کے یہ لوگ پاکستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے یا تو ناواقف ہیں یا پھر انجان بن رہے ہیں۔

پرویز مشرف خود بھی مجھے غیر ضروری طور پر پر اعتماد نظر آئے خاص کر ان کا یہ کہنا کہ ’مجھے فوج سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہے اور فوج جانتی ہے کہ کہ مجھے کیادرکار ہے‘۔

سابق صدر پرویز مشرف سے ان کی ممکنہ ریلی پر حملے کا امکان کا پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈرتا نہیں ہوں۔ اس بات پر وہاں موجود افراد نےکہا کہ ہم آپ کےساتھ سر پر کفن باندھ کرجائیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔