نگراں وزیراعظم نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 08:55 GMT 13:55 PST

جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو تین ستمبر 1929 کو بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے گاؤں اعظم خان میں پیدا ہوئے

جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو نے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے ان سےحلف لیا۔وہ ملک کے چھٹے نگراں وزیراعظم ہیں۔

حلف برداری کی تقریب میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے علاوہ، سپیکر قومی اسمبلی، سینیٹرز اور مختلف ممالک کے سفیروں سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

نگراں وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ہے اور عملے سے تعارف کروایا گیا۔

اس سے پہلے پاکستان کے نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کا کہنا ہے کہ ملک میں شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ان کی اولین ترجیح ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے بطور نگراں وزیراعظم تقرری کے بعد اتوار کی شام اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں گے اور امید کرتے ہیں کہ وہ بھی ان سے تعاون کریں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت کی مدت نہیں بڑھانے دیں گے اور اگر مقررہ مدت میں الیکشن نہ کروا سکے تو ’گھر چلے جائیں گے۔‘

وفاقی کابینہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی کابینہ کے ارکان کی تعداد اور نام ابھی طے نہیں ہوئے ہے لیکن یہ ایک چھوٹی کابینہ ہو گی جس کے ارکان کی تعداد دس سے بارہ ہوگی۔

ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتوں کا کام ہے اور وہ ان سے مل کر اس سلسلے میں کام کریں گے۔

پاکستان مسلم لیگ نون، مسلم لیگ قاف، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہان نے جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو کو ملک کا نگراں وزیراعظم مقرر کرنے کے فیصلے کو قابل قبول قرار دیا ہے۔

نگراں وزیراعظم کا اعلان چیف الیکشن کمشنر نے اتوار کو میڈیا کے نمائندوں کے سامنے کیا

نگراں وزیراعظم کا چناؤ پاکستان کی قومی اسمبلی کی تحلیل کے آٹھ دن بعد ہوا اور الیکشن کمیشن نے آئینی مدت کے آخری دن یہ انتخاب کیا۔

الیکشن کمیشن کے پاس نگراں وزیر اعظم کے لیے حکومت کے نامزد کردہ ڈاکٹر عشرت حسین، جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو اور حزبِ مخالف کے نامزد امیدواروں جسٹس ریٹائرڈ ناصراسلم زاہد اور رسول بخش پلیجو کے نام بھیجے گئے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ’الیکشن کمیشن نے سنیچر کو نگراں وزیراعظم کے چناؤ پر غور شروع کیا تھا لیکن کل ہی ہمیں ٹھہر جانا پڑا کیونکہ سندھ سے الیکشن کمیشن کے ممبر روشن عیسانی کو آنے میں دقت ہوئی اور وہ آج اتوار کی صبح پہنچے اور ان کی شرکت لازمی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد تمام ناموں پر کھل کر تفصیلی مشاورت کرنے کے بعد کثرتِ رائے سے جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو کے نام کا انتخاب کیا گیا اور جہاں تین صوبوں کے ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیا وہیں پنجاب سے رکن جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی نے اختلاف کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ ناصراسلم زاہد کا نام بطور نگراں وزیراعظم تجویز کیا۔

پاکستان میں سولہ مارچ کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد پہلے وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما اور پھر نگراں وزیراعظم کے چناؤ کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی مشاورت کے باوجود کسی ایک نام پر اتفاق نہیں کر سکی تھی جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو سونپا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔