میر ہزار خان کھوسو کون ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 مارچ 2013 ,‭ 12:49 GMT 17:49 PST

پاکستان الیکشن کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو کو غیر متوقع طور پر نگراں وزیراعظم نامزد کرکے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ’سرپرائز‘ دیا ہے۔

مسلم لیگ نواز کو یقین تھا کہ معاملہ الیکشن کمیشن میں جانے کی صورت میں فیصلہ جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کے حق میں ہوگا اور شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کی سطح پر طے نہیں کیا۔

حکومت کی نگراں وزیراعظم کے لیے پہلی ترجیح ڈاکٹر عشرت حسین تھے اور اس بات کا اندازہ فاروق نائیک کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط سے بھی ہوتا ہے۔

چوہدری نثار علی خان کے بقول پیپلز پارٹی نے انہیں پیشکش کی تھی کہ وزیراعظم کے لیے ان کے امیدوار کی حمایت کریں تو پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کرے گی۔ لیکن ان کے بقول وہ ’مُک مُکا‘ کرنا نہیں چاہتے۔

لیکن اب تو لگتا ہے کہ انہیں عمران خان ایک بار پھر ’مُک مُکا‘ کا طعنہ دیں گے کیونکہ بظاہر لگتا ہے کہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ کا معاملہ بھی اگر الیکشن کمیشن میں آیا تو کمیشن توازن کے لیے مسلم لیگ نواز کے امیدوار کے حق میں فیصلہ کرسکتا ہے۔

میر ہزار خان کھوسو کے حق میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس لیے بھی آیا کہ ان کا تعلق بلوچستان سے ہے اور اس سے شورش زدہ بلوچستان کو احساس شراکت بھی ہوگا۔

دھیمے مزاج کے مسٹر کھوسو کے خاندان کا پیپلز پارٹی سے چالیس سال پرانا تعلق ہے لیکن مقامی سیاست میں وہ ہمیشہ ظہور خان کھوسو کے حامی رہے ہیں، جو پہلے تو جمہوری وطن پارٹی میں تھے اور اب مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے میر ہزار خان کھوسو کی نامزدگی پر اعتراض نہیں کیا اور کھلے دل سے قبول کیا ہے۔

چراسی سالہ نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو سندھی، اردو، بلوچی، انگریزی روانی سے بولتے ہیں۔ وہ اس وقت بلوچستان کی صوبائی زکوات کونسل کے چیئرمین ہیں اور اس عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے مشہور اداکار ایوب کھوسو کے رشتہ دار میر ہزار خان کھوسو کا گاؤں اعظم خان کھوسو بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں ہے۔ یہ گاؤں سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے اور بلوچستان کے اس علاقے کا زیادہ تر انحصار اور کاروبار سندھ کے ضلع جیکب آباد سے ہے۔

بلوچستان کے سابق سینیٹر اور موجودہ ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی کے مطابق میر ہزار خان کھوسو سپریم کورٹ میں عارضی جج بھی رہے۔

ان کے بقول چوہدری شجاعت حسین کی ضمانت کا معاملہ جب اس وقت سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے آیا تو دو ججوں نے ضمانت منظور کرنے کے حق میں اور میر ہزار خان کھوسو نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔

میر ہزار خان کھوسو نے غیر جانبدار اور شفاف بنیاد پر الیکشن منعقد کرنے کو اپنی اولین ذمہ داری قرار دیا ہے جبکہ امن وامان کی بحالی کو ایک بڑا چیلینج قرار دیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو تین ستمبر 1929 کو بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے گاؤں اعظم خان میں پیدا ہوئے۔ 1954 میں سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن اور دو برس بعد کراچی یونیورسٹی سے قانون کی سند حاصل کی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے آخری ایام میں یعنی 20 جون 1977 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے عارضی جج بنے۔

انہیں ضیاءالحق نے مستقل جج بنایا اور بطور چیف جسٹس انہوں نے 29 ستمبر 1991کو ریٹائر کیا۔

ریٹائرمنٹ کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وفاقی شرعی عدالت کے جج بن گئے اور میاں نواز شریف کے دور میں 17 نومبر 1992 کو وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس بنے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔