’لوگ سن ہی نہیں رہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 مارچ 2013 ,‭ 15:55 GMT 20:55 PST

’مجھے اپنوں نے ہی لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا‘

شاعر کی طرح سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بھی شاید آج یہ ہی گلہ ہوگا کہ ان کے استقبال کے لیے کارکن فراہم نہیں کیے گئے کیونکہ اپنے سابق حلیفوں کے آسرے پر ہی انہوں نے وطن واپسی کے لیے کراچی کا انتخاب کیا تھا۔

ساڑھے چار سال کے بعد جنرل پرویز مشرف نے دبئی سے اتوار کو دوپہر پونے ایک بجے کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔

’سب سے پہلے ہم‘ کے چکر میں نیوز چینل نے طیارہ اترنے کے ساتھ ہی کیمروں سے ان کا تعاقب کرنا شروع کردیا جبکہ صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ آئی تھی، جو اپنے تجزیوں اور خبروں میں جنرل مشرف کی شخصیت سے کافی متاثر نظر آتے تھے۔

کیمروں کا رخ یا تو جنرل مشرف یا ان چند نوجوانوں کی جانب تھا جو بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ ’ کارکنوں میں کافی جوش پایا جاتا ہے‘ جیسے روایتی جملے کا استعمال کرنا شاید میڈیا کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے۔

استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد اس قدر کم تھی کہ میڈیا نے انہیں دکھانا یا بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اندرون سندھ سے چند بسیں اور کراچی سے کچھ لوگوں کو ملا کر بھی دو ہزار کا ہندسہ عبور نہیں ہوسکا۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی نائب صدر غلام مصطفیٰ خاصخیلی کا کہنا ہے کہ طالبان کی دھمکی کا شوشہ چھوڑ کر لوگوں کو ڈرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ان کی بسوں کو روکا گیا لیکن اس کے باوجود ستّر سے پچہتر ہزار لوگ ایئرپورٹ پہنچنے میں کامیاب رہے۔

ہزارہ قومی موومنٹ نامی غیر معروف جماعت نے بھی جنرل مشرف کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے سربراہ ملک رفیق اعوان کا کہنا تھا کہ انہیں ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا مگر اس کے باوجود وہ دو ہزار لوگ ساتھ لےکر آئے۔

جنرل پرویز مشرف تین گھنٹے ٹرمینل نمبر ون کے لاؤنج میں رہے۔ جب لوگ واپس جانے لگے تو وہ باہر آئے اور انہوں نے بغیر مائیک کے لوگوں اور میڈیا کو خطاب کیا۔

محمد علی جناح کے مزار سے جلسہ ایئرپورٹ پر منتقل کرنے کے اعلان کے باوجود کوئی انتظام موجود نہ تھا۔ یہاں تک کہ ساؤنڈ سسٹم بھی دستیاب نہ تھا جس کے باعث لوگ تقریر سننے سے محروم رہے اور نعرے لگاتے رہے۔ اس دوران جنرل مشرف کے زبان پر یہ جملہ آگیا کہ ’لوگ سن ہی نہیں رہے‘۔

جنرل مشرف نے تقریر میں اپنا مخصوص سٹائل برقرار رکھا اور کہا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے اور یہ ہی بتانے کے لیے وہ پاکستان آئے ہیں۔

ایک پیغام ان کا طالبان کے لیے بھی تھا جو ان پر حملے کا اعلان کرچکے ہیں۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی مکہ اور مدینہ جاتے ہیں تو ان کے لیے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ بھی اتنے ہی اچھے مسلمان ہیں جتنا کوئی اور ہوسکتا ہے۔

دس منٹ کے خطاب کے بعد لوگوں نے تو واپسی کی راہ اختیار کی لیکن میڈیا نے وہاں ہی ڈیرے ڈالے رکھے لیکن کچھ دیر کے بعد سابق صدر پولیس، رینجرز اور ذاتی محافظوں کی نگرانی میں ہوٹل چلے گئے۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی نائب صدر غلام مصطفیٰ خاصخیلی کا دعویٰ ہے کہ زیادہ تر لوگ اندرون سندھ سے آئے تھے لیکن کراچی کے مقامی لوگوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

پرویز مشرف نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں جاکر جلسوں سے خطاب کریں گے۔ غلام مصطفیٰ خاصخیلی کا خیال ہے کہ جنرل مشرف کی آمد ان کے لیے انتخابات میں مددگار ثابت ہوگی۔

رواں سال آٹھ جنوری کو جنرل پرویز مشرف نے اسی جگہ پر جلسے سے خطاب کیا تھا جہاں اتوار کو بھی ان کا جلسہ مجوزہ تھا۔ پچھلے دنوں لاڑکانہ میں ان کے جلسے کا انتظام کیا گیا لیکن لوگوں کی مطلوبہ تعداد جمع نہیں ہوسکی اور جلسہ اچانک ملتوی کردیا گیا۔

آل پاکستان مسلم لیگ کی سرگرمیاں جنرل ریٹائرڈ مشرف کے جلسے سے خطاب کرنے تک محدود رہی ہیں اور ان کی آمد کے بعد بھی یہ ہی سلسلہ جاری رہے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔