’پاکستان میں 65 سالوں میں انصاف نہیں دیکھا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 مارچ 2013 ,‭ 22:14 GMT 03:14 PST

سردار اختر مینگل کے بقول عدالت کے نوٹس لینے کے باوجود ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عدالت کے احکامات پر کسی بھی طرح سے عمل نہیں کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پیر کو بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلٰی بلوچستان سردار اختر مینگل اپنی جلاوطنی ختم کر کے ملک واپس پہنچے۔

پاکستان واپسی سے قبل دوبئی میں بی بی سی کو دیےگئےخصوصی انٹرویو میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے اور وہ پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ بدھ کو کراچی میں پارٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے لوگوں کو سرکار کی جانب سے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈز سے خطرہ ہے اور دوسری جانب ہمارے نادان دوست بھی قوم پرستوں کے لیے خطرہ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو قائل کرنا ہے تو دلیل سے کرے کیونکہ عسکری گروہوں سے زیادہ طاقت سرکار کے پاس ہے اگر ان کے پاس بندوق ہے تو سرکار کے پاس توپ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں انتخابی عمل کا جاری رہنا مشکل ہے ، خاص کر فرقہ ورانہ معاملات ، گم شدہ افراد کا مسئلہ ایک ہے اور مسخ شدہ لاشیں مسلسل ملنا بھی سنگین معاملہ ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک ریاست اس طرح کی حرکتیں کرے گی تو پھر دوسروں کو کیا سمجھایا جائے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم پرستوں کو اصل خطرہ ریاست کی جانب سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پرست جماعتوں میں اتحاد کے امکانات تو کم ہیں البتہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا امکان بہرحال موجود ہے۔

"بلوچستان کے لوگوں کو سرکار کی جانب سے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈز سے خطرہ ہے اور دوسری جانب ہمارے نادان دوست بھی قوم پرستوں کے لیے خطرہ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو قائل کرنا ہے تو دلیل سے کرے کیونکہ عسکری گروہوں سے زیادہ طاقت سرکار کے پاس ہے اگر ان کے پاس بندوق ہے تو سرکار کے پاس توپ ہے۔"

سردار اختر مینگل

اختر مینگل نے کہا کہ انہوں یہ خوش فہمی نہیں ہے کہ بلوچستان کی اگلی حکومت چاہے جس کی بھی ہو اسے با اختیار بنایا جائےگا کہ وہ بلوچستان کہ مجموعی حالات کو قابو میں کرسکے۔

اختر مینگل نے کہا کہ ’پاکستان میں پینسٹھ سالوں میں انہوں نے انصاف نہیں دیکھا‘۔

سپریم کورٹ میں جاری بلوچستان بدامنی کیس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کی چیف جسٹس کو ایک یاداشت کے طور پر ایک خط لکھا تھا کہ صرف گزشتہ چھ ماہ میں سو کے قریب لوگوں کو اغواء کیا گیا ہے ، گولیوں سے چھلنی ستر لاشیں ملی ہیں اور ساٹھ افراد کو ہدف بناکر قتل کیا گیا ہے ۔

اختر مینگل کے بقول عدالت کے نوٹس لینے کے باوجود ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عدالت کے احکامات پر کسی بھی طرح سے عمل نہیں کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا عدالت کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے اور اسی وجہ سے بلوچوں کی نسل کشی کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان کے لوگوں کو انسان تصور کیا جاتا ہے تو عدالت کو اس کیس کا فیصلہ جلد سے جلد سنانا ہوگا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔