اقتدار ملا تو پاکستانی آئین کے تحت حلف اٹھائیں گے: اختر مینگل

Image caption سردار اختر مینگل چار برسوں تک خودساختہ جلاوطنی کے بعد حال ہی ملک واپس آئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت گیارہ مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر ہمیں انتخابات کے نتیجے میں اقتدار ملتا ہے تو ہم پاکستانی آئین کے تحت حلف اٹھائیں گے‘۔

سردار اختر مینگل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ نے ان کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کہ ان کی جماعت ایک جمہوری جماعت ہے اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت بلوچ عوام کے حقوق کے بارے میں پائے جانے والے تحفظات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انتخابات میں حصہ لے گی اور یہ کہ اِن تحفظات کے بارے میں چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی جماعت نے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ جماعت کے منشور کی تیاری پر کام کرے گی اور یہی کمیٹی انتخابی اتحاد کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اب تک کسی بھی دوسری جماعت سے کسی قسم کی سیاسی یا انتخابی اتحاد کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

اس سے قبل سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک صوبے میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور لاپتہ افراد کو منظرعام پر نہیں لایا جاتا ہے اُس وقت تک انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں ہوسکتے۔

یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی اورنیشل پارٹی نےجنرل پرویزمشرف کی فوجی حکومت پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئےنہ صرف سال دوہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا بلکہ سردار اختر مینگل چار برسوں تک خودساختہ جلاوطنی میں بھی رہے۔

اسی بارے میں