’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انچاس ہزار ہلاکتیں‘

Image caption فوجی کارروائیوں میں تین ہزار سے زائد شدت پسند بھی مارے گئے

سپریم کورٹ میں فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے جمع کرائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک پندرہ ہزار پانچ سو سکیورٹی اہلکاروں سمیت انچاس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ رپورٹ اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے سات قیدیوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں اور فوج کے نمائندے کی طرف سے عدالت میں جمع کرائی گئی۔

اس سے پہلے دیگر اداروں کی طرف سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد پاکستان میں چالیس ہزار کے قریب فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں فوج اور خفیہ اداروں کے نمائندے کی طرف سے جمع کرائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں نو ہزار سے زائد عام شہری اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال کے دوران فوجی کارروائیوں میں تین ہزار سے زائد شدت پسند بھی مارے گئے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گُزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 235 خودکش حملے کیے گئے جبکہ 9257 راکٹ حملے کیے گئے۔ اس عرصے کے دوران بم حملوں کی تعداد 4256 ہے اور امن کمیٹیوں کے دو سو سے زائد افراد بھی شدت پسندوں کا نشانہ بنے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا گیا تھا جس نے گزشتہ پانچ سال کے دوران شدت پسندوں کے خلاف 475 بڑی کارروائیاں اور اس علاقے میں 6000 سرچ آپریشن کیے۔

اس رپورٹ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو مختلف گروپوں میں بٹ چکی ہے۔ ان میں سے کچھ گروپ فرقہ وارانہ گروپ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور کوئٹہ اور کراچی میں شیعہ برادری کو نشانہ بنانا اس کی واضح مثالیں ہیں۔

اس رپورٹ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان سوات کا افغان حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں جن میں مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، سوات ، دیر اور چترال میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی فوج کی طرف سے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سوات کی مزکورہ کالعدم تنظیم کا افغان حکومت کے ساتھ تعلقات ہیں۔

اس سے پہلے پاکستانی حکومت یا فوج کی طرف سے افغان حکومت پر براہ راست الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے کہ وہ پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں کالعدم تنظیموں کی معاونت کر رہی ہے۔

پاکستان کی طرف سے یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ افغانستان کے علاقے سےپاکستان میں دراندازی ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر مولوی فقیر ان دنوں افغان حکومت کی تحویل میں ہیں اور پاکستان نے افغان حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم افغان حکومت کی طرف سے اس مطالبے کا کوئی جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں