طالبان کا خطرہ،اے این پی کی انتخابی مہم متاثر

Image caption تحریک طالبان اے این پی کو ہر طرح سے دباوُ میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے: شاہی سید

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے عام انتخابات کی مہم عوامی اجتماعوں کی بجائے گھر گھر جا کر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اے این پی نے تحریک طالبان کے ریلیوں میں ممکنہ حملوں کے خطرے کی وجہ سے کیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سندھ کے صدر شاہی سید نے بی بی سی اردو کو بتایا تحریک طالبان ایک ایسا خطرہ ہے جس نے انہیں خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے شہر میں بھی انتخابات کے لیے کھلے عام عوامی اجتماع سے روک دیا ہے۔

شاہی سید نے الزام لگایا کہ طالبان نے کراچی میں ان کے پینتیس عہدے داروں اور کارکنوں کو ہلاک کیا جس کا تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اعتراف بھی کیا ہے، اگر وہ کراچی میں بڑی انتخابی ریلیاں منعقد کرتے ہیں تو ان کے سامنے چارسدہ اور مردان کے جلسوں کی طرح یہاں بھی خودکش حملوں کا خطرہ ہے اسی لیے ان کی جماعت نے گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا آپشن بھی موجود ہے، اس کے جواب میں شاہی سید نے کہا کہ یہ بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگیا اور ایسا کرنے کا اے این پی سوچ بھی نہیں سکتی۔

طالبان کے خطرے کی وجہ سے بقول شاہی سید وہ اور ان کی جماعت اے این پی کے دوسرے اعلیٰ عہدے دار اپنی آمدو رفت کو خفیہ رکھتے ہیں مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسا حکمت عملی کے تحت کرتے ہیں۔

شاہی سید نے الزام لگایا کے تحریک طالبان اے این پی کو ہر طرح سے دباوُ میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے جن میں بھتہ دینے اور اے این پی چھوڑنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز شامل ہیں جس کی وجہ سے اے این پی کے چار عہدے داروں کو کراچی چھوڑنا پڑا اور بعض کو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی۔

اے این پی کو طالبان کے طرف سے کراچی کے جن علاقوں یا انتخابی حلقوں میں خطرہ ہے ان میں پشتون آباد ی والے علاقے شامل ہیں۔ شاہی سید کے مطابق حلقوں میں پی ایس نواسی کیماڑی، پی ایس نوے اور اکانوے بلدیہ، پی ایس ترانوے اور چھیانوے منگھو پیر سلطان آباد، پی ایس ایک سو چھبیس سہراب گوٹھ اور لانڈھی قائد آباد کے حلقے پی ایس ایک سو اٹھائیس، ایک سو انتیس اور ایک سو تیس شامل ہیں۔ ان علاقوں میں اے این پی کو دفاتر بھی بند کرنے پڑے۔

اے این پی کے جنرل سیکرٹری بشیر جان کے اوپر کراچی میں تین قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے میٹروول سائٹ ، حسن اسکوائر اور شاہراہ فیصل کے علاقوں میں میں ہوئے۔ بشیر جان کے مطابق جان کو خطرہ لاحق ہونے کے باوجود سندھ کی نگران حکومت نے آتے ہی ان سے پولیس کی سیکیورٹی واپس لے لی ایسے میں ان کے پاس انڈر گراوُنڈ ہونے یا پھر کراچی چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

لیکن تمام تر خطرے کے باوجود اے این پی نے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ اے این پی کراچی سے صوبائی اسمبلی کی پندرہ اور قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر امیدوار کھڑے گی ان ہی میں ایک حلقہ ترانوے فرنٹیئر کالونی ہے جہاں سے این پی اے کے بشیر جان اس مرتبہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حلقہ انتہا پسندی کے خطرے کی وجہ سے کافی حساس سمجھا جاتا ہے، اسی حلقے میں اے این پی کے تیس سے زیادہ عہدے دار اور کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں کراچی کے حلقہ ترانوے اور حلقہ ایک سو اٹھائیس پر امیر نواب اور امان اللہ محسود نے کامیابی حاصل کرکے صوبائی اسمبلی میں دو نشستیں حاصل کیں تھیں۔ اے این پی تسلیم کرتی ہے سیکیورٹی کے حوالے سے صرف یہ دو حلقے نہیں بلکہ کراچی کے تمام حلقے ان کے لیے حساس ہیں۔