’نئی حلقہ بندیاں سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئیں‘

Image caption الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے دوسرے حصوں میں قومی اسمبلی کے ایک سواٹھائیس اور صوبائی اسمبلیوں کے دوسو بیانوے حلقوں میں انتظامی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شیرافگن نہ کہا ہے کہ کراچی میں قومی اورصوبائی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیاں سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ہوئی ہیں۔

ڈائریکٹرجنرل انتخابی کمیشن آف پاکستان شیر آفگن نے بدھ کی شام اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ کراچی سے قومی اسمبلی کے تین اور صوبائی اسمبلی کے آٹھ حلقوں کی نئی حلقہ بندیاں کی گئی ہیں جن کے بارے میں سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں انتخابی حلقوں میں صرف انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو ان کے مطابق قومی اسمبلی کے ایک سواٹھائیس اور صوبائی اسمبلیوں کے دوسو بیانوے حلقوں میں عمل میں لائی گئی ہیں۔

دوسری جانب بدھ ہی کو وزارتِ داخلہ کے دفتر میں امن وامان سے متلعق ایک اجلاس منعقد ہوا ہے جس کے بارے میں الیکشن کمشن کے ترجمان نے کہا کہ اس اجلاس میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کاجائزہ لینے کے لیے بیرون ملک سے آنے والے مبصرین اور صحافیوں کے ویزوں اور انکی حفاظت کے بارے میں مختلف تجاویز پرغور کیا گیا۔

اسی طرح پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نےبدھ کو الیکشن کمشن کو ایک فہرست فراہم کی جس کے مطابق قومی اسمبلی اورسینٹ کے چھ سو تینتیس ارکان ایسے ہیں جن کے ذمے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی مد میں ایک کروڑ اکیس لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔

پی ٹی سی ایل کے نادہندگان میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپکرفیصل کریم کنڈی، مسلم لیگ نواز کی تہمینہ دولتانہ، سابق وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک، جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان اور ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کے علاوہ کئی اہم سیاست دان شامل ہیں۔

ادھر الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراھیم جمعرات کو کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی، پختونخواملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان، بی این پی عوامی، نظریاتی مسلم لیگ، جماعت اسلامی اورپیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

چیف الیکشن کمشنر اس کے علاوہ انتخابات کے موقع پر بلوچستان میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تاہم شیڈول کے مطابق ملاقات کرنے والوں میں جمہوری وطن پارٹی اور بلوچ ری پبلکن پارٹی کے قائدین شامل نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے اسلام آباد میں کہا تھا کہ وہ دورۂ کوئٹہ کے موقع پر جلاوطن بلوچ رہنماء براہمداغ بگٹی سے بھی رابطہ کریں گے۔

اسی بارے میں