پاکستان: 633 گمشدہ، 317 کا پتا ہی نہیں

Image caption گمشدہ افراد کا تعلق پاکستان کے تمام حصوں سے ہے

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے چھ سو سے زائد افراد ابھی تک جبری طور پر گمشدہ ہیں جن کے زندہ یا مردہ ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان افراد کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں نے بھی یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ افراد اُن کی تحویل میں ہیں یا نہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا سے 279 افراد لاپتا ہیں۔ سب سے زیادہ افراد سوات، دیر، پشاور اور مردان کے علاقوں سے لاپتا ہوئے ہیں، جب کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے 148 افراد گُذشتہ ڈیڑھ سال سے لاپتا ہیں جن کے بارے میں خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکام کو آگاہ نہیں کیا کہ وہ کن کی تحویل میں ہیں۔

ان افراد کا تعلق پنجاب کے جنوبی علاقوں بہاولپور، بھکر اور میانوالی سے ہے۔

جبری طور پر گمشدہ افراد کے بارے میں وزارتِ داخلہ میں بنائے گئے ایک کمیشن نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر سے 633 افراد ابھی تک لاپتا ہیں جب کہ سرکاری اعدوشمار کے مطابق ایک ہزار سے زائد لاپتا افراد سے متعلق درخواستیں کمیشن کو موصول ہوئی تھیں جب کہ سنہ 2010 کے بعد سے کمیشن نے 316 افراد کو بازیاب کروایا تھا۔

تاہم اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان افراد کو خفیہ اداروں کی تحویل سے آزاد کروایا گیا ہے یا پھر انھیں عقوبت خانوں سے بازیاب کروایا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ اگر یہ افراد خفیہ اداروں کی تحویل میں تھے تو پھر اُن اداروں کے ذمے داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے، حالانکہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان سے اب لاپتا افراد کی تعداد 48 رہ گئی ہے جب کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گُذشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران 42 افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے۔

صوبہ سندھ سے ابھی تک ایک سو افراد لاپتا ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق کراچی، حیدرآباد اور سکھر سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت سے 36 افراد لاپتا ہوئے تھے جن میں سے 12 کو بازیاب کروا لیا گیا ہے یا وہ خود ہی گھروں کو لوٹ آئے تھے جب کہ 20 افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے 38 افراد کی جبری گمشدگی کے مقدمات سامنے آئے تھے جن میں سے 11 افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے جب کہ باقی افراد کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ کن اداروں کی تحویل میں ہیں۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر عدالت میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ فرنٹئیر کرائم ریگولیشن کے تحت قبائلی علاقوں کی انتظامیہ کی تحویل میں سات سو سے زائد افراد موجود ہیں، تاہم اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی بازیابی سے متعلق لاپتا افراد سے متعلق کمیشن تحقیقات کر رہا ہے۔

جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم ہونے والے کمیشن کی کوئی آئینی حثیت نہیں ہے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کمشین درخواست گُزاروں کو طلب نہیں کرتا بلکہ خفیہ اداروں کے وکیل کمیشن کے سامنے پیش ہوکر لاپتا افراد سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں، تاہم کمیشن کے چیئرمین ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں