پاکستان: معیارِ زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں

پاکستان نے انسانی معیارِ زندگی یعنی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے اعتبار سے دنیا میں اپنا ایک سو چھیالیسواں درجہ برقرار رکھا ہے لیکن اس کی وجہ یہاں کے حکمرانوں کی بہتر پالیسیاں نہیں بلکہ پاکستان سے انڈیکس میں نیچے ممالک کی خراب کارکردگی ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے پاکستان میں ڈائریکٹر مارک آندرے فرانش نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کی۔ ’رائز آف دی ساؤتھ: ایک متنوع دنیا میں انسانی ترقی‘ نامی سال دو ہزار تیرہ کے لیے ہومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے اجراء سے ایک روز قبل صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے چیلنج اصلاحات کے لیے دشوار سیاسی فیصلے کرنا ہے۔

’سب سے بڑا چیلنج سات کروڑ عوام کو غربت سے نکالنا ہوگا۔ ان فیصلوں میں اپنے وسائل کی ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں جن سے عوام کا زیادہ بھلا ہو، پی آئی اے جیسے اداروں میں بیل آؤٹ پیکج دے کر نہیں بلکہ عالمی معشیت میں حصہ ڈال کر دوسرے ممالک سے مل کر فائدہ اٹھانے کی جانب بڑھیں۔‘

مارک کا کہنا تھا کہ نیو یارک برازیل کے غربت کے خاتمے کے طریقہ کار کو زیر استعمال لاکر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جائزے کے مطابق لاہور میں غربت کا تناسب سات فیصد ہے لیکن اسی صوبے کے جنوبی ضلع راجن پور میں اس کی شرح ستر فیصد ہے۔ ’یہ وسیع پیمانے پر ترقی کا کوئی پائیدار رجحان نہیں۔ اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز کے نئے زیادہ بہتر منصوبے سامنے لانے ہوں گے۔‘

پاکستان میں یو این ڈی پی کے غربت پر قابو پانے کے یونٹ کے نائب سربراہ آزار بھنڈارا نے ملک کی طویل مدتی ترقی میں خلل کی بڑی وجہ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا بتائی۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں صعنتی ترقی کی سب سے اونچی شرح دیکھی گئی، پاکستان کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کو جنوبی کوریا نے اپنایا اور فائدہ اٹھایا جبکہ پاکستان میں تسلسل نہ ہونی کی وجہ سے اس کا منفی اثر ہوا ہے۔

Image caption رپورٹ کے مطابق پاکستان سوشل سیکٹر میں کانگو جیسے کئی غریب افریقی ممالک سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چالیس فیصد روزگار کا انحصار زراعت پر ہے لیکن پھر بھی زراعت میں شرح نمو کم ہو رہی ہے۔ زراعت کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ محض اکیس فیصد ہے۔ شرح نمو میں کمی کی وجہ سے اس شعبے میں روزگار کے مواقع بھی کم پیدا ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ پاکستان کو یا تو انڈونیشیا سے سیکھ کر زرعی شعبے میں پیداوار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے یا پھر اضافی افراد کو مینیوفیکچرینگ کے شعبے میں لے جائیں۔

پاکستان کی ترقی میں حائل ایک اور مسئلہ ملک کی تیس فیصد نوجوان نسل یا تو ناخواندہ ہیں یا پھر کوئی ہنر نہیں رکھتی۔

پھر پاکستان کو نئی منڈیاں اگر تلاش کرنی ہیں تو وہ محض امریکہ یا یورپ کی جانب نہ دیکھے بلکہ علاقائی منڈیوں میں بھی جگہ بنانے کی کوشش کرے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ارب کی مشترکہ آبادی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا ححجم محض دو ارب ڈالر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان سوشل سیکٹر میں کانگو جیسے کئی غریب افریقی ممالک سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔ پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار کا صرف اعشاریہ آٹھ فیصد صحت اور ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم پر صرف کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کمائی کی تفریق بھی سال دو ہزار سے لیکر دو ہزار دس کے دوران صفر اعشاریہ دو سات سے بڑھ کر صفر اعشاریہ دو نو فیصد ہوگئی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں انتخابات گیارہ مئی کو ہونا طے پائے ہیں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عوام کی سیاسی شرکت کو بڑھانا ضروری ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں چوالیس فیصد ووٹ پڑے جبکہ بنگلہ دیش میں ستاسی فیصد اور بھارت میں تقریبا ساٹھ فیصد رہے۔ مدت مکمل کرنے والی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں صرف سو خاندانوں کی نمائندگی تھی۔ رپورٹ میں اسے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں