صحافیوں کی سیاست

Image caption حسین حقانی اور شیری رحمان سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے منسلک تھے

پاکستان میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات نے سیاست میں حصہ لیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے عہدیدار بھی رہے۔ تاہم سینیئر صحافی نجم سیٹھی دوسرے صحافی ہیں جن کو ملک کے کسی صوبے کا وزیر اعلیْٰ مقرر کیا گیا۔

ان سے پہلے حنیف رامے پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور سپیکر پنجاب اسمبلی رہ چکے ہیں۔

نجم سیٹھی کو منگل کی رات پنجاب کا نگراں وزیراعلیٰ بنایا گیا اور بدھ کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

نجم سیٹھی بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمہ کے بعد نگراں وزیر اعظم ملک معراج خالد کی کابینہ میں بطور مشیر بھی شامل رہے۔

سابق وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی بھی سیاست میں آنے سے قبل ایک ہفتہ روزہ کے ایڈیٹر رہے۔

صدر آصف زرداری کے ترجمان اور سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی عملی سیاسی میں قدم رکھنے سے پہلے صحافت سے منسلک رہے اور ایک انگریزی روزنامے کے ایڈیٹر کے طور پر فرائض انجام دیئے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی شروع میں مسلم لیگ نون کے میڈیا سیل سے منسلک ہوئے اور پھر نواز شریف کی حکومت میں وہ سری لنکا میں سفیر بن گئے۔

حسین حقانی نے مسلم لیگ نون سے تعلق ترک کر کے پیپلز پارٹی سے اپنا ناطہ جوڑ لیا اور ان کی اہلیہ خواتین کی مخصوص نشستوں سے رکن اسمبلی منتخب ہوگئیں۔

تاہم حسین حقانی کو گزشتہ برس سفیر کے عہدے سے ہٹا دیاگیا جبکہ ان کی اہلیہ کو دوہری شہریت کی وجہ سے اسمبلی کی نشست چھوڑنی پڑی۔

برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور واجد شمس الحسن بھی صحافت کے ساتھ منسلک رہے۔

انگریزی روزنامہ دی مسلم کے ایڈیٹر مشاہد حسین سید وہ پہلے صحافی ہیں جو کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر پارلیمان تک پہنچے۔انہوں نے وزیر اطلاعات کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

مشاہد حسین سید نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز مسلم لیگ نون سے کیا اور سینیٹر بننے کے بعد وہ وزیر اطلاعات بھی رہے۔ نواز شریف کے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وہ مسلم لیگ قاف کا حصہ بنے اور اب پارٹی کے منتخب سیکرٹری جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے رکن بھی بنے ہیں۔

کالم نگار ایاز امیر مشاہد حسین کے بعد دوسرے صحافی تھے جو عملی سیاست میں آئے اور انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

ایاز امیر انیس سو ستانوے کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور مسلم لیگ نون یعنی اپنی ہی حکومت کے بعض فیصلوں پر نکتہ چینی کرتے رہے۔

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، تاہم وہ رکن اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت بھی کرتے رہے اور ان کے کالم مقامی اخبار میں شائع ہو رہے ہیں۔

سینیئر صحافی ارشاد احمد حقانی ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے نگراں حکومت میں ذمہ داری سنبھالی۔انیس سو چھیانوے میں جب اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی تو وہ نگراں وزیر اطلاعات بنے۔

سینیئر صحافی شیری رحمان ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جو دو مرتبہ رکن اسمبلی بننے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات بھی رہیں۔ شیری رحمان پہلے دو ہزار دو اور پھر دو ہزار آٹھ میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی طرف سے دو بار رکن قومی اسمبلی چنی گئیں۔

شیری رحمان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات بھی رہیں اور ججوں کی بحالی کی تحریک میں وہ وزیر اطلاعات کے عہدے سے الگ ہوگئیں۔ گزشتہ برس انہوں نے امریکہ میں پاکستانی سفیر مقرر ہونے پر قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیْ دے دیا تھا۔

لاہور کی خاتون صحافی کنول نسیم مقامی اخبار میں لیڈی رپورٹر کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں اور دو ہزار دو کے انتخابات میں وہ اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی۔ تاہم دوہزار آٹھ کے انتخابات میں انہیں دوبارہ رکن اسمبلی بننے کا موقع نہیں مل سکا۔

کالم نگار بشریْ رحمان بھی رکن صوبائی اور قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔

شیریں مزاری بھی ان خواتین صحافیوں میں ایک ہیں جنہوں نے حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف سے عملی سیاسیت میں حصہ لیا۔

ٹی وی اینکر مبشر لقمان بھی نگراں حکومت کا حصہ بننے والے صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔دو ہزار آٹھ میں وہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیْ جسٹس اعجاز نثار کی کابینہ میں صوبائی وزیر رہے۔