’شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کروں گا‘

Image caption نجم سیٹھی نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر حالات حاضرہ کا پروگرام کرتے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ نجم عزیز سیٹھی نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

گورنر مخدوم احمد محمود نے بدھ کو لاہور میں گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں ان سے حلف لیا۔

اس حلف برداری کے بعد پاکستان میں وفاق اور چاروں صوبوں میں نگراں حکومتوں کے قیام کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔ پنجاب کے نگراں وزیرِاعلیٰ کے چناؤ کے لیے بنائی جانے والی چھ رکنی کمیٹی نے منگل کی رات اس عہدے کے لیے نجم سیٹھی کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

نجم سیٹھی کا نام صوبے میں حزبِ مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ دو ناموں میں سے ایک تھا۔

نگراں وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد نجم سیٹھی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں اور ان کے لیے اہم مسئلہ امن وامان اور سکیورٹی کا ہے اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے وہ ہر ممکن اور دلیرانہ اقدامات کریں گے۔

انھوں نے کہ عام طور پر بہت ساری باتوں کے بارے میں بیورو کریسی بتاتی نہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ میڈیا اس سلسلے میں ان کی مدد اور رہنمائی کرے۔

انھوں نے کہا کہ اگر انہیں علم ہوا کہ کوئی بھی بڑا یا چھوٹا بیورو کریٹ ناجائز فائدے اٹھا رہا ہے یا ناجائز کام کر رہا ہے تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ مجرمانہ غفلت، بد عنوانی اور اقربا پروری کو برداشت نہیں کریں گے۔

نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ جب تک وہ نگراں وزیر اعلیٰ ہیں، ان کا کوئی دوست یا رشتہ دار نہیں ہے، اگر کوئی بھی ان کا دوست یا رشتے دار کسی قسم کا ناجائزفائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو وہ اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔

نجم سیٹھی شعبۂ صحافت سے تعلق رکھنے والے دوسرے فرد ہیں جنہیں پاکستان کے کسی صوبے میں وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔ ان سے پہلے حنیف رامے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور سپیکر رہ چکے ہیں۔

مسلم لیگ ن نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان اور سابق بیوروکریٹ خواجہ ظہیر کے نام تجویز کیے تھے، جب کہ حزبِ مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی نے نجم سیٹھی کے علاوہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس زاہد حسین کے نام پیش کیے تھے۔

چھ رکنی کمیٹی منگل کی صبح تک کسی ایک نام پر اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہی تھی اور معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھیجنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

تاہم پھر پنجاب کے وزیرِاعلیٰ اور مسلم لیگ نون کے رہنما میاں شہباز شریف نے نواز لیگ اور قاف لیگ سے تعلق رکھنے والے ارکانِ کمیٹی سے رابطہ کر کے انہیں دوبارہ مشاورت کی ہدایت کی تھی۔

اسی بارے میں