پشاور: فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ

پشاور میں تشدد کے بعد ایک فائل فوو
Image caption پشاور میں شیعہ افراد کی ٹارگیٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں عام انتخابات سے قبل گزشتہ تین روز میں فرقہ وارانہ تشدد کے تین واقعات پیش آئے ہیں جن میں دو افراد ہللاک ایک زخمی اور ایک کو اغوا کر لیا گیا ہے ۔

دوسری جانب سوات میں امن کمیٹی کے دو افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

پشاور میں بدھ کی صبح میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر خواجہ عمران علی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے اس واقعے میں ان کے بیٹے رضا علی زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق خواجہ عمران علی صبح اپنے بیٹے کو گاڑی میں سکول لے جا رہے تھے تبھی موٹر سائکل پر سوار نا معلوم افراد نے ان پر حملہ کیا اور فرار ہوگئے۔

امامیہ جرگہ خیر پختونخوا کے عہدیدار اخونزادہ مظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ آج صبح ایک شیعہ شخص سرفراز حسین کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے جس کی اطلاع پولیس کو کر دی گئی ہے۔

اسی طرح دو روز پہلے پشاور کے مضافات میں چارسدہ روڈ پر لڑمہ کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دکان پر بیٹھے آغا محمد حسن کو ہلاک کر دیا تھا۔ آغا محمد حسن کی عمر پینتالیس برس تھی لیکن وہ غیر شادی شدہ تھے۔ وہ اندرون پشاور شہر کے رہائشی تھے۔

صرف یہی نہیں گزشتہ چار ماہ سے پشاور اور اس کے مضافات میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔صوبے کے دیگر شہر جہاں پہلے فرقہ وارانے تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے تھے اب وہاں سے بھی اس طرح کی وارداتوں کی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ہلال حیدر کی ایک خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد سے ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ چند ماہ میں جن اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں ڈاکٹر ریاض حسین ، ڈاکٹر شاہ نواز علی، ایڈیشنل سیشن جج احتشام علی ملک جرار حسین ایڈووکیٹ اور دیگر شامل ہیں۔

امامیہ جرگہ کے سربراہ اخوانزادہ مظفر کے مطابق انتخابات سے پہلے اس طرح کے واقعات پیش آنے کا مقصد علاقے میں حالات خرا ب کرنا ہے جبکہ انتظامیہ اور پولیس ہاتھ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور ایک پر امن شہر ہے اور یہاں اہل شیعہ اور اہل سنت بھائیوں کی طرح رہتے ہیں لیکن بعض شرپسند تنظیمیں حالات خراب کر رہی ہیں اور ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔

دوسری جانب بدھ کی صبح ضلع سوات میں تحصیل مٹہ کے ایک گاؤں شکر درہ میں امن کمیٹی کے دو افراد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔ دونوں افراد گاؤں میں حفاظت کے لیے پہرے پر تعینات تھے۔

ان علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کے بعد مقامی افراد کو امن کمیٹی میں شامل کرکے پہرے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی ہے۔ کچھ عرصے سے سوات اور دیگر قریبی علاقوں میں امن کمیٹیوں کے عہدیداروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں