پشاور میں ٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازم ہلاک

Image caption پشاور میں کچھ عرصے سے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے سرکاری اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ہلاکت کا یہ واقعہ بدھ کی صبح گلبرگ کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور میونسپل کارپوریشن کے سب ڈویژنل افسر خواجہ عمران بیٹے کے ہمراہ اپنی گاڑی میں جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

فائرنگ سے اڑتالیس سالہ خواجہ عمران موقع پر ہی ہلاک اور ان کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر فرقے کی بنیاد ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کا واقعہ ہے۔

تاحال کسی گروپ کی جانب سے اس تازہ واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم ماضی میں ایسے واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے قبول کی تھی۔

خواجہ عمران پشاور میں رواں ہفتے میں ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے والے دوسرے شیعہ ہیں۔ دو دن قبل پشاور کے مضافاتی علاقے لڑمہ میں ایک ریٹائرڈ فوجی آغا محمد حسن کو بھی نامعلوم افراد نے گولی مار دی تھی۔

پشاور میں حالیہ چند ہفتوں میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے اور چند ماہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلے ایک عرصے سے جاری ہے اور کراچی اور کوئٹہ میں سینکڑوں افراد ایسی ہی وارداتوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم پشاور میں جہاں ماضی میں طالبان کی کارروائیوں میں حکومتی فورسز اور عوام کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے وہاں فرقے کی بنیاد پر ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کا سلسلہ شروع ہونے پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں