وادیِ تیراہ: جنت سے جہنم کا سفر

Image caption پاکستان میں شدت پسندی کی وجہ سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں

دس سالہ طالبہ نازیہ اپنے خیمے کے باہر کھڑی بڑی حسرت بھری نگاہوں سے سکول یونیفارم میں ملبوس بچوں کو اپنے اپنے سکولوں کی طرف خوشی خوشی جاتے دیکھ رہی ہے۔

والدین اور اپنے پیارے آبائی گھر سے محروم طالبہ نازیہ گورنمنٹ گرلز سکول تیراہ کی طالبہ تھی جو حال ہی میں اس شورش زدہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والی بے گھر افراد کے جلوزئی کیمپ میں بے یار و مددگار زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

تیراہ 80 سے لے کر 100 کلومیڑ پر پھیلا ہوا ایسا قبائلی خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں۔

فلک بوس درختوں، برف پوش چوٹیوں اور خوبصورت باغات کے لیے مشہور سر سبز و شاداب تیراہ افغانستان کی سرحد سے قریب اور باڑہ سے تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

2004 کے بعد قبائلی ایجنسی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کے آغاز کے بعد مختلف طالبان تنظیموں نے تیراہ خیبر ایجنسی کا رُخ کیا جہاں پر اُنھوں نے اپنے مراکز، ٹھکانے، نجی جیل خانے اور عدالتیں قائم کر کے مختلف مقامات پر قبضہ جما لیا۔

شورش زدہ تیراہ میں مختلف کالعدم تنظیمیں انصار الاسلام، لشکر اسلام، تحریکِ طالبان اور امن تنظیم توحید الاسلام متحرک ہیں، جن کو مختلف قبیلوں کی مدد حاصل ہے۔

انصار الاسلام کو باغ، میدان، امن تنظیم توحید الاسلام کو ذخہ خیل، تحریک طالبان طارق گروپ کو تحریکِ طالبان پاکستان اور لشکرِ اسلام کو باڑہ کے مختلف قبیلوں کی حمایت حاصل ہے۔

یہ عسکریت پسند تنظیمیں گذشتہ کئی ماہ سے کئی مقامات پر مسلکی اختلافات کے بنا پر ایک دوسرے کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔ یہ نہ صرف ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کر رہی ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے گھروں کو تباہ اور لاشوں کی بے حرمتی بھی کرتی ہیں۔

ان کی آپس کی جنگ کی وجہ سے وادیِ تیراہ بارود کا ڈھیر بن گئی ہے۔ ہر طرف سے بھاری ہتھیاروں، دھماکوں، بموں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ جنت نظیر وادی جو پھولوں کے خوشبوں سے معطر تھی، آج آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔

گذشتہ کئی ہفتوں سے مختلف کالعدم تنظیموں کے درمیان جاری شدید جھڑپوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور متعدد مقامات تباہ ہونے کے باعث علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ علاقے میں تمام تر تعلیمی ادارے اور بازار بند اور سڑکیں مسدود ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خورد ونوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

کشیدہ صورتِ حال کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے باعث دس ہزار سے زائد خاندان شدید متاثر ہو کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔

Image caption قبائلی علاقوں میں جاری شورش کا سب سے بڑا نشانہ بچے بنے ہیں

نقل مکانی کرنے والے زاہد اللہ اور حیات شاہ کے مطابق تیراہ کے مختلف مقامات پر تحریکِ طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور مخالف تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کے گھروں کو جلایا جارہا ہے، جس کی وجہ سے وہاں پر رہنا ناممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہرطرف لاشیں، خون، انسانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں۔

ہزاروں خاندان بھرے پرے گھروں کو چھوڑ کر زندگی بچانے کے لئے کئی کئی کلومیٹر پیدل خوف کے سائے تلے دُشوار گزار پہاڑوں کو عبور کر کے جلوزئی کیمپ کو پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ انتہائی مشکل سے زندگی گزار رہے ہیں۔

قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں تیراہ میں حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ متعدد فوجی کارروائیوں کے باوجود عسکریت پسند بدستور منظم اور فعال ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق تیراہ میں ابتر صورتِ حال کا براہِ راست پشاور پر اثر ہوتاہے کیونکہ پشاور کی سرحد باڑہ قبائلی پٹی سے جاملتی ہے۔

اس وقت خیبر پختونخوا کے گورنر انجنئیر شوکت اللہ خان ہیں جو خود قبائلی ہیں اور قبائلی علاقوں کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں غیرجانب دار نگران حکومت قائم ہے۔ قبائلی عمائدین نے توقع ظاہر کی ہے کہ گورنر اور صوبائی حکومت علاقے میں امن و استحکام، نقصانات کے ازالے اور بے گھر افراد کی جلد جلد بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔

اسی بارے میں