دوہری شہریت:سابق ارکان کیخلاف کارروائی کا حکم

Image caption عام انتخابات میں لوگوں کو اپنے اُمیدواروں کے بارے میں تمام معلومات سے آگاہ ہونا چاہیے: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے دوہری شہریت اور جعلی ڈگری کے معاملات میں سابق اراکینِ اسمبلی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

اب تک سابق اسمبلی کے بارہ ارکان کو عدالت یا الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا ہے جبکہ بیس ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی دوہری شہریت کی وجہ سے مستعفی ہوگئے تھے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ارکانِ پارلیمان کی دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو مستعفی ہونے والے ان بیس ارکان کو بھی ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئے ہی نااہل قرار دینا چاہیے تھے جن کی دوہری شہریت ثابت ہو چکی تھی۔

عدالت نے اس معاملے میں سابق رکنِ اسمبلی شہناز شیخ کی مثال دی اور کہا کہ مستعفی ہونے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ باقی ارکان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ جو اراکین عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے مستعفی ہوگئے تھے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے والے بیس ارکان کی فہرست ریٹرننگ افسران کو بھجوا دی گئی ہے تاکہ اگر یہ افراد کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائیں تو انہیں اسی وقت نااہل قرار دے دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس ضمن میں عدالتی حکم واضح ہے اور الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت والے بیس سابق ارکان کو تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں دی گئی رقوم تاحال واپس نہ کرنے پر طلبی کے نوٹس بھی جاری کر دیے ہیں۔

جن بیس ارکان نے دوہری شہریت کی وجہ سے استعفی دیا تھا ان میں ڈاکٹر عاصم حسین،مراد علی شاہ، طیبب حسین، ندیم احسان، حیدر عباس رضوی، فوزیہ اعجاز، رضا ہارون، ڈاکٹر محمد علی شاہ، عبدالمعید صدیقی، صادق میمن، عسکری تقوی، ارش کمار، دونیا عزیز، فوزیہ اصغر، جمیل احمد ملک، ڈاکٹر طاہر علی جاوید،جمیل اشرف، جاوید اقبال ترکئی، سبین رضوی اور عارف عزیز شیخ شامل ہیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے بیس ستمبر 2012 کو فرح ناز اصفہانی، فرحت محمود خان، نادیہ گبول ، زاہد اقبال، اشرف چوہان، وسیم قادر ، احمد علی شاہ ، ندیم خادم، جمیل ملک، محمد اخلاق اور آمنہ بٹر کو نااہل قرار دیا تھا جبکہ رائے مجتبیٰ کھرل اسمبلی کے آخری دنوں میں نااہل قرار دیے گئے تھے۔

اس سے قبل جعلی ڈگریوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہیں اترتے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت نے ہائی کورٹوں کو ماتحت عدالتوں میں اس ضمن میں زیرِ التوا مقدمات کی تفصیلات طلب کر کے چار اپریل تک عدالتی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

گزشتہ سماعت کے دوران پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سنہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے جعلی ڈگریوں کے حامل صرف دو ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جبکہ 34 کیسز ایسے ہیں جن کے بارے میں نہ تو عدالت نے اور نہ ہی کمیشن نے کوئی حتمی کارروائی کی ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے عدالت کو بتایا کہ جعلی ڈگریوں سے متعلق 69 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے 34 کیس کارروائی کے لیے پولیس اور ضلعی عدالتوں کو بھجوا دیے گئے تھے جبکہ 27 کیس ہائی ایجوکیشن اور دیگر اداروں کی طرف سے تصدیق کے بعد ختم کر دیے گیے ہیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آٹھ کیس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی وجہ سے الیکشن کمیشن اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا۔

اسی بارے میں