جعلی ڈگری کیس: 35 ارکان زد میں

Image caption سپریم کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے کیس دو دنوں میں نمٹانے کی ہدایت کی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے ڈگریوں کے معاملے پر غلط بیانی کرنے والے سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کے احکامات کی زد میں مختلف پارٹیوں کے 35 اراکین آئیں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر غلط بیانی کے یہ الزامات ثابت ہو گئے تو یہ اراکین آئندہ کے انتخابات لڑنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ تاہم اس کے باوجود بعض سیاسی جماعتوں نے ایسے اراکین کوانتخاب لڑنے کے لیے پھر ٹکٹ جاری کر دیے ہیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ نے دہری شہریت اور جعلی ڈگری کے معاملات پرسماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے حامل سابق اراکین کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

اس حکم کی زد میں پارلیمنٹ کا حصہ رہنے والی پاکستان کی تقریباً تمام اہم سیاسی جماعتوں کے اراکین آئے ہیں جن کے خلاف متعلقہ اضلاع میں فوجداری مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

ان 35 میں سے قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 12 ہے، جن میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اراکین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے چار اراکین قصور سے مظہرحیات، سرگودھا سے سید جاوید حسنین شاہ، پاک پتن سے محمد سلمان محسن گیلانی شامل ہیں۔

اس کےعلاوہ گوجرانوالہ سے مدثر قیوم نہرا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، جب کہ بلوچستان کے علاقہ کچی سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ہمایون عزیز کرد بھی انہی اراکین میں سے تھے جو اب مسلم لیگ نواز میں شامل ہوچکے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے کوئٹہ سے سابق ایم این اے ناصرعلی شاہ بھی پارٹی چھوڑ کر اب بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کا حصہ بن چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بہاولپور سے عامر یار وارن اور لودھراں سے حیات اللہ خان ترین بھی ان اراکین میں شامل ہیں جب کہ اس جماعت کے ایک رکن جمشید دستی بھی اب پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔

ایسے اراکین جن پر جعل سازی ثابت ہوئی تو کیا وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکیں گے؟

اس سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کے ترجمان محمد افضل خان نے بی بی سی کوبتایا ’جن لوگوں کے خلاف ثابت ہوگیا کہ ان کی ڈگریاں جعلی ہیں توان کے لیے اب الیکشن لڑنا ناممکن ہوگا۔ اس لیے کہ انھوں نے ریٹرننگ افسروں کو مطمئن کرنا ہوگا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 پر پورا اترتے ہیں اورانھوں نے کبھی دھوکا دیا ہے اورنہ ہی وہ غلط بیانی کی مرتکب ہوئے ہیں۔ بصورت دیگر وہ انتخابات لڑنے کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔‘

بی بی سی کے پاس دستیاب جعلی ڈگریاں رکھنے والے اراکین کی فہرست میں بلوچستان کے سبی کم کوہلو کم ڈیرہ بگٹی سے مسلم لیگ ق کے میر احمدان خان، پشین سے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کے مولوی حاجی روز الدین اور سانگھڑ سے مسلم لیگ فنکشنل کے غلام دستگیر راجڑ بھی شاید آئندہ انتخاب نہ لڑ سکیں گے۔

اسی طرح اس فیصلے سے پنجاب اسمبلی کے 12، بلوچستان اسمبلی کے چھ اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ ثقافت عاقل شاہ سمیت چار اراکین متاثرہوں گے۔

یاد رہے کہ چند سال قبل جب پاکستان کی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل اراکین کی موجودگی کا معاملہ سامنے آیا تو فوری طور پر 69 اراکین کی فہرست سامنے آئی۔ اس معاملے کے لیے الیکشن کمیشن میں خصوصی سیل قائم کیا گیا جہاں پرسماعت کے بعد اب ایسے 34 ارکان کے خلاف ان کے متعلقہ اضلاع میں فوجداری مقدمات درج کیے جاچکے ہیں، جب کہ آٹھ ارکان اپنے دفاع کے لیے ہائی کورٹ میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اسی طرح 27 اراکین ان اراکین کے خلاف سماعت بند کر دی گئی جن کی ڈگریاں ابتدائی طور پر جعلی قرار دی گئی تھیں، تاہم بعد میں انھیں درست قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو جعلی ڈگری کیس کی سماعت کے دوران ان اراکین کے کیسوں کو دو دن کے اندر اندر نمٹانے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں