نگراں وزیراعظم کو کابینہ کی تشکیل میں مشکلات

Image caption کابینہ کا انتخاب وزیراعظم کھوسو کے لیے توقع سے زیادہ مشکل چیلنج بن چکا ہے

معتبر اور اچھی ساکھ رکھنے والی بعض شخصیات کی جانب سے نگراں وفاقی کابینہ کا رکن بننے سے معذرت کے بعد پاکستان کے نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کو اپنی کابینہ کی تشکیل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایوان وزیراعظم میں نگراں کابینہ کے ارکان کے چناؤ کے لیے گزشتہ روز بلایا جانے والا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا اور کابینہ میں اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے فیصلہ نہیں ہو سکا۔

میر ہزار کھوسو سب سے پہلے اپنے وزرائے داخلہ اور خارجہ کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ان عہدوں کے لیے انہیں ’مناسب‘ شخصیات دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

وزیر خارجہ کے معاملے میں وزیراعظم کھوسو کو اس وقت شدید مایوسی اور دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس عہدے پر کام کرنے سے معذرت کر لی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس امر کی تصدیق کی کہ انہیں نگراں کابینہ میں وزیرخارجہ بنائے جانے کی پیشکش ہوئی تھی۔

’میرا خیال ہے کہ اس قلیل مدت کے لیے نگراں حکومت کو صرف ایک اچھے وزیر خزانہ کی ضرورت ہے۔ خارجہ امور کی نگرانی سیکرٹری خارجہ بھی بخوبی کر سکتے ہیں۔‘

نگراں وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق وزیرِ داخلہ کے لیے ان کی نظر انتخاب مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) احسان الحق پر پڑی ہے تاہم ابھی تک ان کی جانب سے بھی مثبت جواب نہیں آیا۔

جنرل (ر) احسان سے اس بارے میں رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

ان حلقوں کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نگراں کابینہ میں شامل کیے جانے والے دیگر افراد کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور اپنا حتمی فیصلہ شاید اس وقت ہی سنائیں گے جب انہیں کابینہ کے دیگر ارکان کے نام بتائے جائیں گے اور وہ صرف اسی صورت میں کابینہ کا حصہ بننا پسند کریں گے جب اس میں اچھی ساکھ والے افراد ہی شامل ہوں۔

یہ اچھی ساکھ والے لوگ کون ہیں اور آیا وہ دو ماہ کے لیے نگراں حکومت میں شامل ہونا بھی چاہتے ہیں یا نہیں، یہ سوال وزیراعظم کھوسو کے لیے توقع سے زیادہ مشکل چیلنج بن چکا ہے۔

اسی بارے میں