سیاسی قائدین فاٹا جاسکتے ہیں: الیکشن کمیشن

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی پارٹی کے قائدین انتخابی مہم کے لیے قبائلی علاقوں میں جانا چاہتے ہیں تو مقامی پولیٹکل ایجنٹ سے رابط کرنے کے بعد جاسکتے ہیں کیونکہ قبائلی علاقوں میں جانے پر کوئی پابندی نہیں۔

یاد رہے کہ یہ پہلے انتخابات ہوں گے جس میں قبائلی علاقوں میں اُمیدوار سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیں گے۔

صوبائی الیکشن کمشنر سونوخان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آئندہ انتخابات کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں کے لیے سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں دس ہزار پانچ سو پولنگ سٹیشن اور تیس ہزار کے قریب پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔

ان پولنگ بوتھ میں نو ہزار خیبر پختونخوا کے لیے جبکہ مختلف قبائلی علاقوں کے لیے ایک ہزار اسّی پولنگ سٹیشن اور تین ہزار چھ سو پندرہ پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان پولنگ سٹیشنوں کو محفوظ بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے محکمہ داخلہ کے حکام سے رابطے کیے ہیں اور ضرورت کے مطابق خیبر پختونخوا اور مختلف قبائلی علاقوں میں حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا الیکشن کے دوران ایف سی پولیس اور خاصہ دار فورس سے مدد لی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں کم و بیش پانچ ہزار پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہ سکتے کہ باقی ماندہ پولنگ سٹیشن حساس نہیں ہوں گے تاہم ہر جگہ حالت خراب ہوسکتے ہیں جس کے لیے سکیورٹی اہلکار چوکس رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے کیمپوں کے ارد گرد ووٹ ڈالنے کےانتظامات کیے جارہے ہیں۔البتہ مقامی انتظامیہ اس حوالے سے مختلف پہلوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں دو ہفتے پہلے میرانشاہ کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ پر خود کش کار بم حملے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کردیاگیا تھا تاھم اُمیدواروں کے کاغذات جمع کرانے کے لیے مقامی انتظامیہ نے آج سے کرفیو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں