پشاور میں پرتشدد واقعات میں اضافہ

پشاور

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے قریبی علاقوں میں انتخابات کے اعلان کے بعد سے دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے سات واقعات پیش آچکے ہیں۔

گزشتہ بیس دنوں میں دو درجن سے زیادہ واقعات میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انتخابات کے اعلان سے پہلے پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں صورتحال کشیدہ رہی ہے جہاں آئے روز بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

گزشتہ سات روز میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے علاقے میں صورتحال تشویشناک ہے۔

تازہ ترین واقعہ جمعہ کے روز پشاور صدر میں اس وقت پیش آیا ہے جب کمانڈر فرنٹیئر کانسٹبلری کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صوبے میں انتخابات کے حوالے سے سکیورٹی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ میں دس ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے جن میں نصف سے زیادہ انتہائی حساس ہوں گے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے لیے انھیں سکیورٹی فورسز کی مدد حاصل کرنی پڑے۔ ادھر نگران حکومت نے بھی محکمہ داخلہ کے حکام سے کہا ہے کہ وہ صوبہ بھر میں حساس علاقوں کی نشاندہی کریں جس کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں تشدد کی حالیہ کارروائیاں تشویش کا باعث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان دنوں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور صوبائی انتظامیہ ہر ضلعے کی سطح پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

چند روز پہلے ایسے مقامات پر دھماکے ہوئے ہیں جن کا تعلق یا تو کسی سیاسی جماعت سے ہے اور یا کسی سیاسی رہنما کے رہائش گاہ کے قریب کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔

پشاور میں پیپلز لیبر فورم کے دفتر کے قریب دھماکہ اور نوشہرہ کے قریب قریب پبی میں سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کی رہایش گاہ کے قریب دھماکے سے ایسا لگتا ہے کہ ان کا مقصد انتخابات یا انتخابات میں متحرک افراد کو نشانہ بنانا ہے۔

اسی طرح اٹھارہ مارچ کو پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں خود کش حملے کو بھی مبصرین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔اس حملے میں دو خود کش حملہ آوروں سمیت چھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے تھے۔

ایک ہفتہ پہلے اکیس مارچ کو جلوزئی میں متاثرین کے کیمپ میں دھماکے سے سترہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے، اسی روز ملاکنڈ میں سخا کوٹ کے مقام پر ایک دھماکے میں دو بچیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔

ان میں ہو سکتا ہے بعض دھماکوں کا تعلق انتخابی عمل سے نہ ہو لیکن چند ایک سے ایسا ہی لگتا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد انتخابی عمل میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔

ان حملوں میں سے کچھ کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ اسی طرح تحریک طالبان کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ عوام تین سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے جلسوں سے دور رہیں۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیم انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے مرکزی قائدین انتخابی مہم کے دوران جلسوں یا کارنر میٹنگز میں خود شرکت نہیں کریں گے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ یا تو وہ ٹیلیفون پر لوگوں سے خطاب کریں گے اور یا ان کی جگہ پر دیگر رہنما ان کا پیغام پڑھ کر لوگوں کو سنائیں گے۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی لیڈر یا رہنما اپنے ملک یا شہر میں موجود ہوتے ہوئے بھی جلسہ گاہ میں نہیں بلکہ ٹیلیفون پر عوام سے خطاب کریں گے جیسا کہ بیروں مملک سے اکثر لیڈر ٹیلیفونک خطاب کرتے ہیں۔

اسی بارے میں