انتخاب میں پیسے کا طلسم

علی احمد کرد

پاکستان میں سینکڑوں دیگر افراد کی طرح سینیئر وکیل علی احمد کرد بھی انتخابی میدان میں کود چکے ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی کے حلقہ این اے پچپن سے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن جو بات انہیں منفرد کرتی ہے وہ ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے انتخاب پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کریں گے۔

ٹیلی ویژن چینل جیو کے ایک پروگرام میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت سے حمایت مانگی ہے اور نہ ہی کسی نے ان سے رابطہ کیا ہے۔

علی احمد کرد یہ انتخاب لڑ کر، ایسے ماحول میں جہاں پیسے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہو چکی ہے، ان سیاسی کارکنوں کی اہمیت اور حق کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں، جن کا کل اثاثہ ان کے نظریات ہیں۔ المختصر ان کا انتخاب لڑنا اُس سوچ کے خلاف بغاوت ہے جس کے مطابق پیسے کے بغیر انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

علی احمد کرد کچھ ایسے ہی عزم کے ساتھ گزشتہ انتخاب میں بھی میدان میں اترے تھے لیکن کسی کو کان و کان خبر نہ ہوئی۔ اس بار صرف ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کے ذریعے ان کا پیغام لاکھوں ووٹروں تک پہنچ گیا۔ سوشل میڈیا کا کردار اس بار اضافی ہے۔ پاکستان میں تقریباً درجن بھر ٹیلی ویژن چینل انتخابات کی کوریج میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کا یہی کردار گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے انتخابات کو پاکستان میں اس سے پہلے ہونے والے تمام انتخابات سے ممتاز کرتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ علی احمد کرد کوئی بھی عام وکیل یا پاکستانی نہیں۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں کردار کی وجہ سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد میں جانے جاتے ہیں۔ لیکن ماضی میں وہ اس تمام تعارف کے ساتھ بھی ’بغیر ایک روپیہ خرچ کیے‘ اپنا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اس بار وہ ایسا سوچ سکتے ہیں۔

پاکستانی انتخابات میں کامیابی کے لیے لازمی سمجھے جانے والے عوامل میں پیسہ اور برادری، نظریات اور کارکردگی پر حاوی رہے ہیں۔اس بار ذرائع ابلاغ میں ان رجحانات پر سوال اٹھائے رہے ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ ووٹر اس پیغام سے کس حد تک متاثر ہوں گے۔

اسی بارے میں