سندھ:انتخابات سے پہلے سیاسی جوڑ توڑ شروع

پاکستان
Image caption پاکستان میں عام انتخابات گیارہ مئی کو منعقد ہونے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے جہاں ایک طرف پیپلز پارٹی اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں مصروف ہے وہاں ان کے مخالفین صف بندی کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اس بار پیپلز پارٹی کو محدود کیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ اس بار انتخابات میں پیپلز پارٹی اور ان کی حریف سیاسی جماعتوں کے علاوہ مقبول گلوکار اور خواجہ سرا بھی حصہ لے رہے ہیں۔

نامور سندھی گلوکار شمن علی میرالی کا تعلق تو شکارپور سے ہے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے سکھر سے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نامزدگی فارم حاصل کیا ہے۔ سکھر میں ہی خواجہ سراؤں کے گرو صنم فقیر نے نامزدگی فارم جمع کرا دیا ہے۔ یہ نئے امیدوار ووٹروں کو کتنا متاثر کر پائیں گہ یہ تو مستقبل بتائے گا لیکن ان کی موجودگی سے انتخابات کا عمل دلچسپ ضرور ہو جائے گا۔

صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کی اکسٹھ اور سندھ اسمبلی کی ایک سو تیس عمومی نشستیں ہیں جن پر براہ راست گیارہ مئی کو پولنگ ہوگی۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں قومی اسمبلی کی اکسٹھ میں سے تینتیس پیپلز پارٹی، انیس متحدہ قومی موومنٹ، چار مسلم لیگ (ق) تین مسلم لیگ (ف) اور ایک ایک نشست نیشنل پیپلز پارٹی اور آزاد رکن نے جیتی تھی۔

سندھ کی صوبائی اسمبلی میں ایک سو تیس میں سے پیپلز پارٹی بہتّر، متحدہ قومی موومنٹ انتالیس، مسلم لیگ (ق) آٹھ، مسلم لیگ (ف) چھ، نیشنل پیپلز پارٹی تین اور عوامی نیشنل پارٹی دو نشستیں حاصل کر پائی تھی لیکن اس بار نتائج اس سے کہیں مختلف ہوں گے۔

مسلم لیگ (ق) کے سابق قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین میں سے بیشتر امیدوار پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں سےکچھ پیپلز پارٹی، بعض مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ف) میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس بار لگتا ہے کہ شاید ہی سندھ سے مسلم لیگ (ق) کو کوئی نشست ملے۔

کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹوں، حلقہ بندیوں اور کراچی میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی وجہ سے صورتحال متحدہ قومی موومنٹ کے لیے بھی ’فیورٹ‘ نہیں ہے اور ان کے لیے بہت بڑا ’اپ سیٹ‘ ہو سکتا ہے کیونکہ کراچی سے ان کی ماضی میں جیتی ہوئی نشستوں میں سے کچھ سیٹیں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مہاجر قومی موومنٹ، سنی تحریک، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علما اسلام (ف) میں سے کسی کو ملنے کا امکان ہے۔

باوجود اس کے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ایک دوسرے تعاون بھی کر رہے ہیں لیکن دونوں جماعتیں سنہ دو ہزار آٹھ کی نسبت حاصل کردہ نشستوں سے کم سیٹیں جیتیں گی لیکن یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ موجودہ حالات کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے زیادہ اور متحدہ قومی موومنٹ دوسرے نمبر پر سیٹیں جیتنے والی جماعتیں ہوں گی اور ان کے بنا کم از کم سندھ کی صوبائی حکومت بنانا شاید ممکن نہ ہو۔

پیپلز پارٹی کے مخالفین جس میں سندھی قوم پرست بھی شامل ہیں انہوں نے پوری مہم بلدیاتی قانون کے خلاف چلائی اور کوئی ٹھوس منشور پیش نہیں کر سکے سوائے اس نعرے کے کہ ’سندھ کے خلاف کوئی سودے بازی ہونے نہیں دیں گے‘۔

پیپلز پارٹی نے بلدیاتی قانون منسوخ کر دیا تو ایسے لگ رہا تھا جیسے قوم پرستوں کی تحریک بھی کمزور پڑ گئی۔

مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ف)، تحریک انصاف، نیشنل پیپلز پارٹی اور ارباب غلام رحیم کی نومولود شیخ رشید ٹائپ ون مین شو والی پیپلز مسلم لیگ اور سندھی قوم پرست سب اس بات پر متفق ہیں کہ پیپلز پارٹی کو سیاسی دھچکا پہنچایا جائے۔ ان سب کی حکمت عملی یہ ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف متفقہ امیدوار سامنے لایا جائے۔

ان کے لیے اچھی خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر قادر مگسی نے ایاز لطیف پلیجو کے حق میں قاسم آباد حیدرآباد کی نشست چھوڑ دی ہے۔

لیکن سیاسی چالوں کے ماہر صدر آصف علی زرداری نے مہر، انڑ، ڈاہری اور شیرازیوں سمیت ‘وننگ ہارسز‘ کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ یہ لوگ ماضی میں ان کے مخالف تھے اور بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے پائی جانے والی ہمدردی کی لہر کے باوجود وہ جیت گئے تھے لیکن اب کی بار وہ پیپلز پارٹی کی چھتری تلے ہیں جس کی اہم وجہ ان بڑے جاگیرداروں کے حلقوں سے کافی تعداد میں جعلی ووٹوں کا اخراج بتایا جاتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) سندھ میں کوئی بڑا اپ سیٹ تو نہیں کرے گی لیکن محدود پیمانے پر اپنی نمائندگی ضرور حاصل کرے گی۔ سنہ دو ہزار آٹھ میں مسلم لیگ (ن) کو سندھ سے کوئی نشست نہیں ملی تھی۔ ان کے ’وننگ ہارسز‘ میں منظور پنہور، غوث علی شاہ، لیاقت جتوئی، ظفر علی شاہ، امیر بخش بھٹو اور بعض دیگر امیدوار ہیں۔

گیارہ مئی کے انتخاب کے بعد بھی سندھ میں مخلوط حکومت بننے کا امکان زیادہ ہے اور اگر پیپلز پارٹی اور متحدہ مل جاتے ہیں تو وہ دونوں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے لیکن پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ سندھ میں فریقین کو حکومت میں شامل رکھیں تاکہ مرکز میں بھی ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط رہے۔

اسی بارے میں