صدر زرداری کے خلاف دو عہدوں کا مقدمہ ختم

Image caption زرداری کے خلاف مقدمہ یہ تھا کہ انہیں سیاسی عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا گيا تھا لیکن عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا گيا

لاہور ہائی کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے بارے میں دائر توہین عدالت کی درخواستیں اس بنیاد پر نمٹا دی ہیں کہ صدر نے اپنا سیاسی عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

یہ درخواستیں مقامی وکلاء اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

جمعے کو سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کی فل بینچ کے سامنے وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے یہ بیان دیا کہ صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اب الیکشن کمشن میں رجسٹر ہوگئی ہے اور اسے انتخابی نشان بھی دے دیا گیا ہے۔

اس پر ہائی کورٹ کے چيف جسٹس نے کہا کہ عدالت یہ توقع کرتی ہے کہ صدر مملکت غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے حقیقی سربراہ کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

وفاقی وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے سیاسی عہدہ چھوڑ دیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح صدر نے اس عدالتی فیصلے پر عمل کیا جس میں یہ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ صدر آصف زرداری خود کو سیاست سے الگ کرلیں گے اور ایوان صدر میں کوئی سیاسی سرگرمیاں نا ہوں گی۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چونکہ صدر نے عدالتی فیصلے پر عمل کیا ہے اس لیے بیک وقت دو عہدے رکھنے کا معاملہ ختم ہوگیا ہے۔

وسیم سجاد کے بیاں پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ریاست کے سب سے اعلیْ منصب پر فائز شخصیت نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور یہ قانون کی حکمرانی اور آئین کے تقدس کو ظاہر کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عوام بھی یہ توقع کرتی ہے کہ صدر مملکت غیر جانبدار رہیں۔

درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے وسیم سجاد کے بیان پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ کہیں یہ عدالت کو دھوکا دینے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے اور صدر مملکت دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کردیں۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار وکیل کے اعتراض کو رد کردیا اور کہا کہ عدالت یہ توقع کرتی ہے کہ صدر مملکت غیر جابنداری برقرار رکھتے ہوئے حقیقی سربراہ کا کردار ادا کرتے رہیں۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے کہا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو عدالت کے دروازے کھلے ہیں۔

ان درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت نے صدر آصف علی زرداری کو سیاسی جماعت کا عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا اس لیے صدر آصف علی زرداری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

لاہور ہائی کورٹ میں صدر کے دو عہدوں کے بارے میں درخواستیں گزشتہ سال جون میں دائر کی گئی تھیں اور نو ماہ کے دوران اس پر چھبیس سماعتیں ہوئیں۔

اسی بارے میں