لائن آف کنٹرول: بے یقینی، خوف اور مشکلات کا شکار لوگ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک بزرگ خاتون بھارتی حکام کی تحویل میں اپنے جوان بیٹے کی لاش کی واپسی کے لیے التجا کررہی ہیں۔

ضلع بھمبھر میں عین لائن آف کنٹرول پر واقع گاؤں نالی کے چھبیس سال کے محمد مقصود اتوار کو بھارتی فوج کی فائرنگ میں مارے گئے تھے اور بھارتی فوجی لاش بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

بھارت کی وزارت دفاع کے ترجمان نے پیر کو جموں میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ دراندازی کی کوشش کے دوران مارا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے کشمیری نوجوان کی والدہ خورشیدہ بی بی نے اس الزام کی تردید کی۔

ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا اپنے ہی رقبے میں گھاس کاٹ رہا تھا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔

خورشید بی بی کہتی ہیں ’ہماری وہاں زمین ہے، ہم وہاں سے گھاس کاٹتے ہیں۔ ہم سرحد پر رہتے ہیں ۔۔۔ اچانک فائر ہوا۔ جب ہم اس طرف گئے تو شدید بارش شروع ہو گئی جس کی وجہ سے ہم پیچھے ہٹے۔ وہ (بھارتی فوجی) میرے بیٹے کو مار کر لاش اپنے ساتھ لے گئے۔ اپنے (پاکستانی) فوجی بھی وہاں آئے مگر وہ پیچھے ہی رہے۔ میں جی نہیں سکتی، میرے بیٹے کی لاش واپس کرو۔‘

خورشید بی بی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ان کا واحد کفیل تھا اور وہ مال مویشی پال کر اور کھیتی باڑی کرکے خاندان والوں کا پیٹ پالتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ برسوں پہلے ان کے شوہر اور چچازاد بھی بھارتی فوج کی مبینہ گولہ باری کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔

سنہ 2003 میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے سے پہلے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے میں دونوں جانب سے سینکڑوں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا۔

ہلاک ہونے والے کشمیری نوجوان محمد مقصود کی بہن نجمہ بی بی کا کہنا ہے ’ہمارے ابو اور نہ ہی ہمارے بھائی رہے ۔۔۔ ہمیں لاش واپس دلا دیں۔‘

پیر کو بھارت کی وزارت دفاع کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوجیوں نے اتوار کی رات کو راجوری کےنوشہرہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک شدت پسند کو ہلاک کیا اور لاش کو قبضے میں لے کر مقامی پولیس کے سپرد کیا گیا ہے۔

ترجمان نے مارے جانے والے نوجوان کا نام محمد مقبول بتایا اور کہا کہ ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بھمبھر سے تھا۔ خاندان والے کہتے ہیں ان کا اصل نام محمد مقصود تھا۔

بھارت کے وزرات دفاع کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والا نوجوان مسلح تھا۔

ضلع بھمبھر میں سماہنی سب ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر چوہدری سرور بھی محمد مقصود کے خاندان والوں کے بیان سے متفق ہیں۔

‘وہ گھاس کاٹنے یا کسی وجہ سے وہاں گیا تھا اور وہاں اسے مار کر انڈیا والے ساتھ لے گئے۔ یہ غریب لوگ ہیں، ان کے رقبے بھی بارڈر تک ہیں۔ یہ گھاس کاٹنے یا مال مویشی چرانے کے لیے آگے چلے جاتے ہیں، پہلے بھی جب امن نہیں تھا اس وقت بھی بارڈر پر یہی ہوتا رہا ہے جو بھی قریب جاتا تھا اس پر فائرنگ کی جاتی تھی۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے پر پاکستان کی فوج کے مقامی کمانڈر نے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابط کیا لیکن دوسری جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

نالی گاؤں کے کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

اس گاؤں کے ایک اور رہائشی خالد حسین نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے بھائی محمد رفیق کوگولی مار کر ہلاک کیا اور وہ ان کی لاش بھی ساتھ لے گئے۔ حسین کو آج بھی اپنے بھائی کی لاش کا واپسی کا انتظار ہے۔

’وہ گھر کے پاس ہی نالے سے مویشیوں کو پانی پلا رہا تھا کہ انھوں (بھارتی فوجیوں) نے فائرنگ کرکے اسے شہید کردیا اور لاش بھی ساتھ لے گئے۔ ہم نے(لاش کی واپسی کے لیے) حکام سے بات کی مگر غریب کی بات کوئی بھی نہیں سنتا۔‘

گاؤں والوں کے بقول چند ایک ایسے بھی واقعات ہیں کہ بھارتی فوجی لوگوں کو زندہ پکڑ کر لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ نوے میں بھارتی فوجی محمد شریف نامی شخص کو آٹے کی چکی سے اٹھا کر لے گئے اور اٹھارہ سال بعد وہ رہا ہوکر اپنے گھر واپس پہنچا۔

امن ہو یا جنگ، لائن آف کنٹرول پر آمنے سامنے فوجوں کی موجودگی کی وجہ سے دونوں جانب بسنے والے عام شہری بے یقینی، خوف اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

اسی بارے میں