بنوں: سابق رکنِ اسمبلی کے قافلے پر حملے میں دو افراد ہلاک

فائل فوٹو
Image caption مخدوش سکیورٹی صورتِ حال کی وجہ سے صوبے میں سیاسی سرگرمیاں پھیکی پھیکی ہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک سابق رکنِ اسمبلی کے انتحابی جلوس پر بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جب کہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

بنوں پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز صبح کے وقت شہر سے کوئی 20 کلومیٹر دور ولی نور کے مقام پر سابق ممبر صوبائی اسمبلی عدنان وزیر کے قافلے میں اس وقت ایک زودار دھماکہ ہوا جبب وہ ایک انتخابی جلسے کے لیے جانی خیل جا رہے تھے۔

ایک سینیئر پولیس افسر نثار احمد تنولی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ریموٹ کنٹرول بم تھا۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں دو افراد ہلاک جب کہ چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی ملک عدنان وزیر بھی شامل ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

مقامی صحافی ریاض خٹک نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق بنوں سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ زخمیوں کو بنوں ضلعی ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

عدنان وزیر اس سے پہلے اے این پی میں شامل تھے، لیکن موجود انتخابات میں وہ آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون کر کے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدنان وزیر کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا اس لیے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے این این پی کے خلاف کارروائیوں کی جو دھمکی دی تھی یہ حملہ اس کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں اے این پی کے متعدد رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ گذشتہ برس 22 دسمبر کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے پر ہونے والے خود کش حملے میں سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مخدوش سکیورٹی صورتِ حال کی وجہ سے صوبے میں سیاسی سرگرمیاں پھیکی پھیکی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے خطرات کے پیشِ نظر عوامی اجتماعات سے گریز کرتے ہوئے گھر گھر انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ بنوں کے مضافاتی علاقے منڈان میں ایک پرائمری سکول میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں سکول کے دو کمرے اور چار دیواری مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے سکول کی چار دیواری میں بارودی مواد نصب کیا تھا جو ایک زودار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سینیچر کو کراچی میں بلدیہ کے علاقے میں ایک سکول پر دستی بم کے حملے میں سکول کے پرنسپل ہلاک اور چھ بچے زخمی ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سکول کے پرنسپل کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔

اسی بارے میں