13 ہزار کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری

Image caption الیکشن میں لوگوں کی زبردست اور بھرپور شرکت ہو رہی ہے: الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد افضل خان

الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد افضل خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کل 13 ہزار سے زائد کاغذات نامزدگی موصول ہوئے ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق قبائلی علاقے باجوڑ سے انتخابات میں حصہ لینے والی بادام زری سمیت ہر کوئی انتخاب میں حصہ لے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ہمیں 13 ہزار سے زائد کاغذات موصول ہو گئے ہیں اور ہم نے انہیں اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔

’تاکہ عوام دیکھ سکیں کہ ان کے رہنماؤں نے وہاں اپنی کیا حیثیت لکھی ہے اور ان کی اصل حیثیت کیا ہے، ان کے وسائل کیا ہیں اور ان کی قانونی ذمے داریاں کیا ہیں‘۔

انہوں نے اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار محمودجان بابر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’الیکشن میں لوگوں کی زبردست اور بھرپور شرکت ہو رہی ہے۔ جس کا ثبوت یہ کہ ہمارے پاس فاٹا سے بھی خواتین امیدوار آئی ہیں‘۔

محمد افضل خان نے آئین کی شق 62 اور 63 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی امیدوار کے لیے سب سے کم معیار یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں اس کا کردار، اخلاق، لوگوں سے رویہ اچھا ہو اور مالی معاملات میں اچھی ساکھ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسلام تو دور کی بات ہے، عام اخلاقیات بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ کوئی امیدوار جعلی کاغذات داخل کروائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ باکردار نہیں ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس بات کا تعین کیسے ہو گا کہ امیدوار کو صادق اور امین بھی ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ وہ امیدوار صادق و امین نہیں ہے جو بینک سے قرضہ لیتا ہے اور واپس نہیں کرتا، ہوسٹل میں رہتا ہے اور بجلی کے بل نہیں دیتا۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس بات کی تشریح کیسے ہو گا کہ کسی امیدوار نے کبھی قیامِ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو اور نظریۂ پاکستان پر یقین رکھتا ہے، الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس کوئی اعتراض لے کر آتا ہے تو اور ساتھ میں کچھ ثبوت بھی لے کر آتا ہے، اس پر فیصلہ کرنا ریٹرننگ آفیسر کا کام ہے۔

سابق صدر مشرف کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الحال تو انہوں نے ایک جج کے پاس ہی اپنے کاغذات جمع کروائے ہیں، اور وہ جج ہی ان کی اہلیت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پورے ملک میں عمومی نشستوں پر بہت خواتین آئی ہیں جو ایک مثبت چیز ہے اور ہم ان کو زیادہ سے زیادہ آسانی فراہم کریں گے۔ اور یہ ایک اچھا رواج ہے۔ جو خواتین کوٹے پر آتی ہیں وہ ہماری آدھی آبادی کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

اسی بارے میں