سیاسی میدان سج گئے

Image caption نواز شریف نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں

پاکستان میں گیارہ مئی کے انتحابات میں کئی نمایاں سیاستدانوں نے ہار کے ڈر سے قومی اسمبلی کے ایک سے زائد حلقوں سے میدان میں اترے ہیں۔

چاروں صوبوں میں سے سب سے زیادہ خوف اور بے یقینی والی کیفیت پنجاب میں پائی جاتی ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے تین تین حلقوں میں نامزدگی فارم جمع کرائے ہیں۔

میاں نواز شریف کے کاغذات حمزہ شہباز شریف نے اکتیس مارچ کی شام کو جمع کرائے۔ پہلے یہ خبریں بھی آئیں کہ وہ انتظار کرنا چاہتے تھے کہ جہاں عمران خان فارم جمع کرائیں وہ وہاں نہ کرائیں۔

میاں نواز شریف نے سرگودھا کے حلقہ اڑسٹھ، لاہور کے حلقہ ایک سو بیس اور ایک سو تئیس سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ جبکہ میاں شہباز شریف نے لاہور کے حلقوں ایک سو اٹھائیس اور ایک سو انتیس اور میانوالی کے حلقہ اکہتر سے کاغذات داخل کیے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ان سے بھی آگے ہیں اور انہوں نے پانچ حلقوں میں کاغذات جمع کرائے ہیں۔ جس میں پشاور کے پہلے حلقہ میں ان کا مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمد بلور، میانوالی میں شہباز شریف، راولپنڈی کے حلقہ چھپن، لاہور کے حلقوں ایک سو بائیس اور ایک سو پچیس میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے ہوگا۔

تحریک انصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی نے چار حلقوں میں نامزدگی فارم داخل کیے ہیں۔ جس میں ملتان کا حلقہ ایک سو انچاس اور لاہور کے تین حلقوں ایک سو بیس، ایک سو بائیس اور ایک سو چھبیس شامل ہیں۔ جاوید ہاشمی اور عمران خان دونوں نے لاہور کے حلقہ ایک سو بائیس سے کاغذات داخل کیے ہیں۔ ہاشمی کا لاہور میں حلقہ ایک سو بیس میں میاں نواز شریف سے مقابلہ ہوسکتا ہے۔

Image caption عمران خان پانچ حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں

جماعت اسلامی نے بھی لاہور کے اکثر حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے لاہور کے حلقہ ایک سو چھبیس سے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ یہ حلقہ میاں نواز شریف کا سمجھا جاتا ہے جہاں سے گزشتہ انتخاب میں عمر سہیل ضیا بٹ کامیاب ہوئے تھے۔ میاں نواز شریف نے اس حلقہ سے کاغذات داخل نہیں کیے اور جماعت اسلامی سے اتحاد کے لیے ان کی بات چیت چل رہی ہے۔

لاہور سے قومی اسمبلی کے گیارہ حلقوں میں سے سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں نو مسلم لیگ (ن) اور دو پیپلز پارٹی نے جیتے۔ لیکن اب کی بار تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے میدان میں کودنے سے صورتحال جہاں دلچسپ ہوئی ہے وہاں کئی سیاسی رہنما پریشان بھی دکھائی دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والوں کا خیال ہے کہ نواز لیگ اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی وجہ سے انہیں فائدہ ہوگا۔

Image caption تحریک انصاف کے جاوید ہاشمی نے چار حلقوں سے کاغذات جمع کرائے ہیں

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے بھی چار حلقوں کراچی کے حلقہ دو سو پچاس، چترال کے بتیس، اسلام آباد کے اڑتالیس اور قصور کے حلقہ ایک سو انتالیس میں فارم جمع کرائے ہیں۔ چترال کا حلقہ ایسا ہے جہاں سے وہ کافی پرامید ہیں جبکہ دیگر تمام حلقوں سے ان کی جیت کے امکان کم ہیں۔

جنوبی پنجاب کے ایک اہم اور بڑے ضلع مظفر گڑھ کو مِنی لاڑکانہ کہا جاتا ہے جہاں سے گزشتہ انتخاب میں پانچوں کی پانچوں قومی اسمبلی کی نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ لیکن اب کی بار صورتحال کچھ مختلف ہے۔ مقامی جوڑ توڑ کی وجہ سے سردار قیوم جتوئی اور معظم جتوئی کو سخت مقابلےکا سامنا ہے۔ جمشید دستی پیپلز پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔

نوابزادہ نصراللہ کے صاحبزادے کو مسلم لیگ (ن) اس بار ٹکٹ نہیں دے رہی اور عباد ڈوگر کو ٹکٹ دیا ہے۔ عباد ڈوگر کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق عہدیدار ہیں اور توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ خاتون کے حق میں بیان دینے کے بعد پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے کو ایک کروڑ انعام دینے سے متعلق ان کا بیان شائع ہوا تھا۔ لیکن بعد میں انہوں نے اس کی تردید کی تھی۔

مسلم لیگ (ف) کی طرف سےپنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر مظفر گڑھ کے حلقہ ایک سو چھہتر سے پیپلز پارٹی کے شبیر قریشی سے مقابلے میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کھر کی حمایت کر رہی ہے۔ حنا ربانی کھر اور ان کے والد نور ربانی کھر نے شہر کی سیٹ سے کاغذات داخل کیے ہیں۔

Image caption حنا ربانی کھر مظفر گڑھ کی شہر کی سیٹ سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں

ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ چوبیس سے مولانا فضل الرحمٰن سے پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی اور پشتو فلموں کی اداکارہ مسرت شاہین مقابلے میں ہیں۔ اس حلقہ سے سنہ دو ہزار آٹھ میں بھی تینوں امیدوار تھے لیکن کامیابی پیپلز پارٹی کو ملی تھی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی چارسدہ سےحلقہ سات اور آفتاب احمد شیرپاؤ نے حلقہ نمبر آٹھ سے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ یہ دونوں حضرات گزشتہ انتخاب میں بھی ان حلقوں سے کامیاب ہوئے تھے۔

بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ سے قومی اسمبلی کی، سردار اختر مینگل خصدار سے صوبائی اسمبلی، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحاق بلوچ خاران اور عبدالمالک بلوچ تربت سے صوبائی اسمبلی اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نصیر آباد/ جعفرآباد سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔

Image caption پرویز مشرف نے بھی چار حلقوں سے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول رہنما بینظیر بھٹو کی لاڑکانہ کی آبائی نشست سے فریال تالپور کا مقابلہ غنویٰ بھٹو سے ہوگا۔ بھٹو برادری میں اختلافات کی وجہ سے صورتحال دلچسپ ہے۔ لیکن فریال تالپور کی پوزیشن مستحکم ہے۔

نوابشاہ میں خان محمد ڈاہری سے سمجھوتے کی وجہ سے نوابشاہ سے پیپلز پارٹی کی پوزیشن کافی بہتر ہوگئی ہے۔

تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے ملتان کے علاوہ سندھ میں تھرپارکر کے حلقہ دو سو اٹھائیس اور دو سو تیس سے بھی کاغذات داخل کیے ہیں۔ پیر پگاڑہ ان کی حمایت کر رہے ہیں اور دو سو اڑتیس پر پیپلز پارٹی کے نواب یوسف تالپور سے ان کا مقابلہ ہے۔ اس حلقے میں ان کے اپنے مرید بھی ہیں۔ جبکہ ارباب غلام الرحیم سے ان کی بات چل رہی ہے اگر انہوں نے ان کی حمایت کی تو دو سو تیس کے حلقے سے وہ با آسانی جیت سکتے ہیں۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کو مجموعی طور پر بظاہر اتنا خطرہ نہیں لیکن لیاری میں ان کے لیے بڑا چیلینج ہے۔